مکان اور مکین
سہما ہوا ہے کمرے میں برسوں کا انتظار جالے ہیں فرقتوں کے کواڑوں کے بیچ میں اک شخص ٹوٹ کر ہوا کچھ اور پُر بہار اُگتے ہوں جیسے پھول دراڑوں کے بیچ میں
معلیٰ
سہما ہوا ہے کمرے میں برسوں کا انتظار جالے ہیں فرقتوں کے کواڑوں کے بیچ میں اک شخص ٹوٹ کر ہوا کچھ اور پُر بہار اُگتے ہوں جیسے پھول دراڑوں کے بیچ میں
عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود اب نہ آفاقی رہا کچھ، نہ علاقائی ہے مسئلے دھرتی […]
دھیرے دھیرے سے مر رہی ہے رات ہاتھ میں کاسۂ فراق لئے سر جھکائے گزر رہی ہے رات کتنی تنہا فضا ہے گلیوں کی سرد آہیں سی بھر رہی ہے رات میری آوارگی کے پہلو میں کو بکو در بدر رہی ہے رات اک دریچے سے راہ تکتی ہے سہمی سہمی ہے، ڈر رہی ہے […]
کون اُتر کر دیکھے اب اس یاد کے گہرے پانی میں جل پریوں کی خاموشی تو منظر کا ایک دھوکا ہے فریادوں کا شور مچا ہے اندھے بہرے پانی میں کوئی سیپ اُگلتی ہے موتی اور نہ موجیں کوئی راز حرص و ہوا کے ایسے لگے ہیں چار سُو پہرے پانی میں جھیل کے نیلے […]
اخبار کی خبر کا تراشہ نہیں بنے کمزوری مت سمجھنا ہماری مٹھاس کو مصری صفت ہوئے ہیں، بتاشہ نہیں بنے
دامن میں بھر کے اپنے ثمر آئے گی زمین نیچے اتر خلاؤں سے لوگوں کے دکھ سمیٹ شمس و قمرسے بڑھ کے نظر آئے گی زمین کشتی کے آسرے کو ڈبو کر تو دیکھ تُو پانی کے درمیان اُبھر آئے گی زمین بٹ جائیں گی محبتیں لوگوں کیساتھ ساتھ روٹی کے مسئلے میں اگر آئے […]
مٹی کا آدمی تھا، ہواؤں میں ڈھل گیا لفظوں سے تھا بنا ہوا شاید وہ شخص بھی اک غم ملا تو کیسی صداؤں میں ڈھل گیا سینے میں جب جلا لیا شعلہ چراغ نے مٹی کا ٹھیکرا تھا، شعاعوں میں ڈھل گیا مجھ کو تو یاد اُس کے خدوخال بھی نہیں دیکھا مجھے تو حسن […]
لہجے میں اعتماد کی شدت نہیں رہی آشوبِ دہر ایسا کہ دنیا تو برطرف خود پر بھی اعتبار کی ہمت نہیں رہی ق کس کس گلی نہ لے گئی آشفتگی ہمیں کس کس نگر میں درد کی شہرت نہیں رہی ویران اب بھی رہتا ہے عالم خیال کا تنہائیوں میں پہلی سی وحشت نہیں رہی […]
مکاں جلا تو جلا سب مکیں بھی جلنے لگے ہوائے شہرِ ضرورت کی بے نیازی سے گھروں کی آگ میں ہم رہ نشیں بھی جلنے لگے غرورِ عشق سلامت رکھے خدا میرا تری وفا سے مرے نکتہ چیں بھی جلنے لگے تمہاری بزم درخشاں رہے ہمارا کیا چراغِ راہ گزر ہیں کہیں بھی جلنے لگے […]
کیا حال سنائیں دنیا کا، کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا […]