وہ حرف حرف پرکھتا ہے میرے لفظوں کو
کمال شخص ہے لہجہ بھی جانچتا ہے مرا
معلیٰ
کمال شخص ہے لہجہ بھی جانچتا ہے مرا
کہ میری ذات میں لہجہ شناس رہتا ہے
تم اُس کو مجبور کیے رکھنا باتیں کرتے رہنے پر اتنی دیر میں ، میں نے اُس کا لہجہ چوری کر لینا ہے
میں آپ کے جواب سے ہوں متّفق مگر لہجہ مجھے یہ آپ کا اچھا نہیں لگا
ایسے میں میرا خون بھی جمتا دکھائی دے سانسیں ہیں بند اور ہے خاموش دھند بھی لب کھول کچھ تو بول کہ رستہ سجھائی دے
تتلی کی کہانی ہے پھولوں کی زبانی ہے
کبھی کاسہ ترا لہجہ ، کبھی بخشش تری باتیں
یہ جھیل دیکھ رہے ہو یہاں وہ آتی تھی
تیری آواز میں شامل مرا لہجہ ہو گا
پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا