حق پرستوں کا لہجہ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے
منافق آپ کو شیرینیاں بکھیرتے دکھائی دینگے
معلیٰ
منافق آپ کو شیرینیاں بکھیرتے دکھائی دینگے
اس کے انداز مگر ، سب تھے دعاؤں والے
ظالم کا لب و لہجہ ، دل آویز بہت ہے
پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا
اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا
لفظوں کا اک ڈھیر لگا ہے ، لہجہ میرے پاس بھی ہے
ان کا لہجہ تھا پتھروں جیسا
سردی کی رات جیسی ہوا ہو گیا ہے وہ
کوئی بالکل ترے جیسا تو نہیں ہو سکتا
سینۂ سنگ سے اک موم کی مورت جاگے ٹوٹ جائے مرے مولا یہ جمودِ شب تار کوکبِ بخت چمک جائے مہورت جاگے کاش پڑ جائے مرے غم پہ ہُما کا سایا شعلۂ درد سے عنقا کسی صورت جاگے خواہش حرف ستائش کو تھپک دو ورنہ بن کے اکثر یہ نمائش کی ضرورت جاگے بے غرض […]