بیاں کو نعمتِ خضریٰ سے بھر دیا جائے

جو لکھ رہا ہوں اسے نعت کر دیا جائے میں ایک سنگ ہوں اور بولنے کی حسرت ہے مجھے بھی اُن ص کی ہتھیلی پہ دھر دیا جائے سنا ہے آپ مصیبت کے وقت آتے ہیں تو مشکلوں کو مری سمت کر دیا جائے اسی کا نام کریمی ہے مصطفیٰ ص کی قسم کہ کوئی […]

یا الہی ! پاک کر میری نگاہ

پھر لگے ناں فخر کی مجھ کو ہوا کر عطا مجھ کو سدا خلق عظیم نفرتوں کی آگےسے مجھ کو بچا عدل اور احسان کی تو فیق دے مجھ کو بندگی کرنے کے ڈھب مجھ کو سکھا کر عطا یا رب مجھے قلب ِ سلیم ایک تیرا ہی ہے مجھ کو آسرا یہ زبان اور […]

کُن کی تجلیّات محمد کی ذات ہے

نُورِ الہیّات محمد کی ذات ہے عکسِ جمالیات محمد کی ذات ہے آئینہ دارِذات محمد کی ذات ہے بعد از خدا کی ذات محمد کی ذات ہے اللہ کی صفات محمد کی ذات ہے مقصودِ کائنات محمد کی ذات ہے تکمیلِ شش جہات محمد کی ذات ہے سرتاپا التفات محمد کی ذات ہے رحمت کی […]

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

جھولی میں اگر ٹکڑے تمھارے نہیں ہوتے جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے ملتی نہ اگر بھیک حضور آپ کےدر سے اِس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزار ے نہیں ہوتے بےدام ہی بک جائیے بازار نبی میں اس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے وہ […]

مَحبتوں کی مَحبت بھی تو ہے، سب کچھ تُو

تمام حُسن کی غایت بھی تو ہے، سب کچھ تُو مرے قریں بھی مقابل بھی، جاں بھی، بالا بھی نہایتوں کی نہایت بھی تو ہے، سب کچھ تُو خدا بھی، عشق بھی، رازق بھی، پھر محاسب بھی جمالِ جان بھی، غیرت بھی تو ہے، سب کچھ تُو کمالِ خلق بھی، خلقت کا حشر ساماں بھی […]

دلِ مضطر کا ہے اصرار بڑی مشکل ہے

کیسے ہو درد کا اظہار بڑی مشکل ہے لاج رکھ لیجئے سرکار بڑی مشکل ہے ہے بپا حشر کا بازار بڑی مشکل ہے کوئی محسن ہے نہ غم خوار بڑی مشکل ہے ایک سے ایک ہے بیزار بڑی مشکل ہے کیسے پہنچوں گا میں اُس پار بڑی مشکل ہے موجِ ساحل بھی ہے منجدھار بڑی […]

خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا

نگاہ ساقی رہے سلامت خمار لےکر میں کیا کروں گا کہاں وہ حال بلال حبشی کہاں وہ عشق اویس قرنی نبی کی فرقت میں جی رہا ہوں قرار لےکر میں کیا کروں گا کوئی ہے شام وطن پہ رقصاں کوئی ہے صبح چمن پہ نازاں بساط میری ہے خاک طیبہ نکھار لےکر میں کیا کروں […]

ان کے جیسا کوئی دو جہاں میں نہیں

جانِ عالم ہیں وہ اور سب سے حسیں چھو کے دامانِ رحمت چلی جب ہوا فصلِ گل چھا گئی غنچئہِ گل کھلا پھر خزاں ہو گئی جا کے خلوت گزیں حسنِ انوار سے پھر منور ہوا خلد سے برتری کا تصور ہوا دشت تھا تیرگی کے جو پہنچا قریں ذات اقدس نے بخشا ہے پائے […]