طلسم خانۂ امریکہ

اَبر و گُل و سِتارہ و مہتاب ساتھ تھے نکلا مَیں گھر سے تو مرے احباب ساتھ تھے رختِ سفر میں کچھ تو اُداسی تھی، کچھ گُلاب یعنی تُمہاری یاد کے اسباب ساتھ تھے صَوت و صدا کے دیس میں تنہا نہیں تھا مَیں چنگ و رُباب و نغمہ و مِضراب ساتھ تھے ھر پل […]

پہنچ گیا جو تمہارے در پر، کہوں گا تم سے سلام سائیں

جو رہ گیا تو یہیں سے بھیجیں گے میرے آنسو، پیام سائیں تمہارے ہاتھوں میں دیدیا ہے خدا نے سارا نظام سائیں کوئی تو کردو میرے بھی آنے کا در پہ اب اہتمام سائیں عجیب لذّت ہے جب پکاروں میں اپنے آقا کا نام سائیں جو سُن کے وہ خوش ہوئے، بنادیں گے میرے سب […]

کوئی ثانی نہیں مصطفیٰ آپ کا

دیکھتے ہیں ملَک راستہ آپ کا اب کسی رہنما کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن ہے آئینہ آپ کا مہ و خورشید دنوں بہت خوب ہیں ڈھونڈتے ہیں مگر نقشِ پا آپ کا مانگتی ہوں دعا میں یہ شام و سحر رب کا کلمہ ہو عطا بھلا آپ کا کاش اس بار جائے مدینے کو جب […]

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ، وہ چاند ہویدا اور ہوا​

منزل کی لگن کچھ اور بڑھی ، دل زمزمہ پیرا اور ہوا​ جب کہر فضاوں پر چھائی ، جب صورتِ فردا دھندلائی​ منظر منظر سے جلوہ فشاں وہ گنبدِ خضرا اور ہوا​ ہر حال میں ان کی موجِ کرم تھی چارہ گرِ ادبار و الم​ حد سے گزری جب تلخی ء غم ، لطفِ شہِ […]

دنیا تے آیا کوئی تیری نہ مثال دا​

میں لبھ کے لیاواں کتھوں سوہنا تیرے نال دا​ حُسن وی غلامی کرے، عشق تیرا پانی بھرے​ چن سینہ چیر دیوے انگلی اشارہ کرے جیہڑا اونہوں ویکھے، پھرے دل نوں‌سنبھال دا​ میں لبھ کے لیاواں کتھوں‌سوہنا تیرے نال دا​ تیریاں تے صفتاں دا کوئی وی حساب نئیں ​ توں تے کتھے تیریاں غلاماں داجواب نئیں […]

دل میں عشقِِ شہِ کونین کی ہے آگ دبی​

دل میں عشقِ شہ کونین کی ہے آگ دبی​ عجمی شیشے میں ہے بادہ نابِ عربی​ مجھ سا محرومِ ازل اور یہ فیضانِ نبی​ مرحبا سیدِ مکی مدنی العربی​ دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی​ شہِ خوبانِ عرب نازشِ خوبانِ عجم​ ترے جلووں سے ضیا گیر ہیں انوارِ حرم​ راحتِ جانِ حزیں […]

گفتگوئے شہ ابرار بہت کافی ہے

ہو محبت تو یہ گفتار بہت کافی ہے یادِ محبوب میں جو گزرے وہ لمحہ ہے بہت اس قدر عالم انوار بہت کافی ہے مدح سرکار میں یہ کیف، یہ مستی ،یہ سرور میری کیفیتِ سرشاربہت کافی ہے للہ الحمد کہ ہم سوختہ جانوں کیلیے شاہ کا سایہ دیوار بہت کافی ہے کاش اک اشک […]

سُنت کا ترے رخ پہ اگر نور نہیں ہے

محبوب کو یہ عاشقی منظور نہیں ہے کس منہ سے کرتا ہے دعویٰء غلامی آقا کی محبت سے جو مجبور نہیں ہے باطن میں نہیں پائے گا تو عشق کی رونق ظاہر تیرا سُنت سے جو معمور نہیں ہے تو خوش نہیں کرتا ہے جو سرکار کے دل کو جب ہی تو تیرا قلب بھی […]

دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی

ذکرِ محمدّی سے نئی زندگی ملی کلیوں نے ترا نام ہی چُپکے سے لیا تھا پھولوں کو اک مہکتی ہوئی تازگی ملی لولاک لما خلق’ کی تنویر ہیں تارے تیرے ظہور سے جنہیں تابندگی ملی جلوت جسے کہتے ہیں وہ خِلوت ہے سراسر بندوں کو اک نئی روشِ بندگی ملی پیچ و خمِ حیات سے […]

خلفائے راشدین

مجسم استقامت ، عزم پیکر ، ابوبکر و عمر عثمان و حیدر سراپا حریت ، جرات سراسر ، ابوبکر و عمر عثمان و حیدر یہ ہیں دیوانہِ فخرِنبوت ، یہ ہیں پروانہ شمع رسالت قتیل عشوہ محبوبِ داور ، ابوبکر و عمر عثمان و حیدر تقدس کا جہاں ، تقوی کا عالم ، معظم محترم […]