روز و شب ہجر گراں بار کا ماتم کر کے
ہم نے عیدیں بھی منائی ہیں محرّم کر کے
معلیٰ
ہم نے عیدیں بھی منائی ہیں محرّم کر کے
کوئی سانحہ کوئی حادثہ مرا منتظر تو نہیں کہیں
وہ جس کے پاس اور تو سب کچھ ہے ، میں نہیں
یہ اذیت ہے جو حددرجہ بُری ہوتی ہے بس وہی عشق ہے جو پہلے پہل ہوتا ہے دوسری بار فقط خانہ پُری ہوتی ہے
اور مرے پاس تو پھر دکھ کی فراوانی ہے
زندان تھا وجود ، مرا دل نہیں لگا من میں منافقت لئے پڑھتی رہی نماز تھے نام کے سجود ، مرا دل نہیں لگا اے رب دو جہان ترے اس جہان میں کوشش کے باوجود ، مرا دل نہیں لگا اس بار شوقِ وصل کی لذت بھی کھو گئی طاری رہا جمود ، مرا دل […]
سانپ اک اور آستین میں ہے ہے لہو میں تمہارے کم ظرفی بے وفائی تمہارے جین میں ہے جس پہ لاکھوں کا عشق وارا تھا اب وہ تیرہ میں ہے نہ تین میں ہے میں نکل تو رہی ہوں سوئے فلک میری منزل اسی زمین میں ہے پردہ گرنے تلک نہ اٹھنا تم راز سارا […]
خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لئے دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے جب تک سخن […]
اٹھا کے کھڑکی سے پھینک دی ہیں جو تم نہیں ہو تو تم سے باندھے گئے تعلق کا کیا کروں میں ؟
ہنستے ہوؤں کو دیکھ کے کوئی بھی خوش نہیں ہوا