بدن میں زندگی کم ہے سوا اذیت ہے

رگیں ادھیڑ کے دیکھو کہ کیا اذیت ہے تو کیا خدا مری حالت سمجھ نہیں سکتا میں چیخ چیخ کے بولوں ؟ خدا ! اذیت ہے لویں اجاڑ دیں اور روشنی کا قتل کیا چراغِ شام سے پوچھو ، ہوا اذیت ہے ہزار بار کی مانگی ، نہیں قبول ہوئی ہم ایسے منکروں کو اب […]

اک روز پتلیوں سے ہٹا دی گئی تھی نیند

تھوڑی سی عمر ، تھوڑی گھٹا دی گئی تھی نیند مجھ کو کہا گیا کہ یہ آنکھوں کا رزق ہیں دیمک تھے خواب جن کو چٹا دی گئی تھی نیند ہم کند ذہن لوگ جنہیں یاد کچھ نہ تھا فرصت کے روز و شب میں رٹا دی گئی تھی نیند آنکھوں پہ سود اتنا بصارت […]

رموزِ عشق مل جائیں ، کوئی حرفِ دعا آئے

ترے بچھڑے ہوؤں کو ہجر میں جینا ذرا آئے تھمے گردش ہی پاؤں کی اگر منزل نہیں ملتی نہ رکنے کا سبب نکلے نہ کوئی راستہ آئے وگرنہ حبس کی شدت سے دھڑکن بند ہوجاتی یہ روزن دل میں رکھا ہے کہ کچھ تازہ ہوا آئے مجھے روٹھے ہوئے کی خیریت معلوم کرنی ہے جو […]