بساط سے کہیں بڑھ کر بڑی لگاتے ہیں
بچھڑنے والے بھی شرطیں کڑی لگاتے ہیں جناب ان کے تعارف میں اتنا کہنا ہے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی لگاتے ہیں
معلیٰ
بچھڑنے والے بھی شرطیں کڑی لگاتے ہیں جناب ان کے تعارف میں اتنا کہنا ہے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی لگاتے ہیں
ورنہ تصویر تو دو تین سے بن سکتی تھی تم نے مانگی ہی نہیں ساتھ دعائیں میرے بات بگڑی ہوئی ، آمین سے بن سکتی تھی
جب تجھے چھوڑ دیا ہے تو سمجھ ، چھوڑ دیا
رگیں ادھیڑ کے دیکھو کہ کیا اذیت ہے تو کیا خدا مری حالت سمجھ نہیں سکتا میں چیخ چیخ کے بولوں ؟ خدا ! اذیت ہے لویں اجاڑ دیں اور روشنی کا قتل کیا چراغِ شام سے پوچھو ، ہوا اذیت ہے ہزار بار کی مانگی ، نہیں قبول ہوئی ہم ایسے منکروں کو اب […]
شاید میں کل تجھے بھی میسر نہ آ سکوں
کوئی چراغ ، ستاروں سے گفتگو نہ کرے
میں نے کچھ سوچ کے لوگوں کو بچھڑ جانے دیا
تھوڑی سی عمر ، تھوڑی گھٹا دی گئی تھی نیند مجھ کو کہا گیا کہ یہ آنکھوں کا رزق ہیں دیمک تھے خواب جن کو چٹا دی گئی تھی نیند ہم کند ذہن لوگ جنہیں یاد کچھ نہ تھا فرصت کے روز و شب میں رٹا دی گئی تھی نیند آنکھوں پہ سود اتنا بصارت […]
فشارِ خون کو یہ کرب تیز کرتا ہے
ترے بچھڑے ہوؤں کو ہجر میں جینا ذرا آئے تھمے گردش ہی پاؤں کی اگر منزل نہیں ملتی نہ رکنے کا سبب نکلے نہ کوئی راستہ آئے وگرنہ حبس کی شدت سے دھڑکن بند ہوجاتی یہ روزن دل میں رکھا ہے کہ کچھ تازہ ہوا آئے مجھے روٹھے ہوئے کی خیریت معلوم کرنی ہے جو […]