لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

پہنچا دے مدینے میں الہی کسی صورت اور پھر اس پہ نچھاور کروں میں اشکوں کی لڑیاں پھر سامنے روضے کی ہو جالی کسی صورت بستی ہے تیری یاد سے بستی میرے دل کی بستی نہ کبھی ورنہ یہ بستی کسی صورت آقا کی ہو سیرت کے مطابق میری سیرت صورت نکل آئے کوئی ایسی […]

نعت میں کیسےکہوں ان کی رضا سےپہلے

میرےماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں جلوئہ صاحب لو لاک لما سے پہلے اُن کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سےپہلے اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا ہے محال کچھ بھی دامن میں […]

درود پڑھتی ہیں عندلیبیں سلام بھیجیں یہ پھول سارے

ہیں رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ میں یہ آیتوں کے نزول سارے وہ ایک اُمی نقیبِ حکمت کتابِ روشن پڑھا رہا ہے بتا رہا وہ ضابطے سب سکھا رہا ہے اصول سارے حضور کی راہ گزر سے ہٹ کر یہ غیر کے جو بھی راستے ہیں بس ان بیابان راستوں میں بچھے ہوئے ہیں ببُول سارے ہم […]

آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں

ھم جو غزلیں لیے پھرتے ھیں ٹھکانے لگ جائیں ہم اگر روز بھی اک یاد بُھلانے لگ جائیں تیری یادوں کو ُبھلانے میں زمانے لگ جائیں ھم تہی ظرف نہیں ھیں کہ محبت کر کے کسی احسان کے مانند جتانے لگ جائیں ہائے وہ بے چارگیٔ عشق کہ وہ پتھر دل ٹھوکریں مارے تو ہم […]

خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے

دیکھا توہے کسی طرف ، دیکھیے کیا دکھائی دے تب مَیں کہوں کہ آنکھ نے دید کا حق ادا کیا جب وہ جمال کم نُما دیکھے بِنا دکھائی دے دیکھے ہووٗں کو بار بار دیکھ کے تھک گیا ہوں میں اب نہ مجھے کہیں کوئی دیکھا ہوا دکھائی دے ایک سوال ، اِک جواب ، […]

گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے

سات رنگوں کی صدا آٹھ پہر آتی ہے شاعری نامی پرندے کے ذریعے مُجھ تک کتنے نادیدہ زمانوں کی خبر آتی ہے حیرتی ہوں کہ گلی والے گُلوں کی خوشبو کیسے در کھولے بِنا صحن میں دَر آتی ہے کون فنکار سنبھالے وہاں مصرعے کی لچک قافیہ بن کے جہاں تیری کمر آتی ہے فیصلہ […]

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے

خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے نکتہ چیں ! شوق سے دن رات مرے عیب نکال کیونکہ جب عیب نکل جائیں ، ہنر بچتا ہے سارے ڈر بس اس ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ہے غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے […]

کس زباں سے ہو تعریف ان کی بیاں؟ وہ کہاں میں کہاں!

کس زباں سے ہو تعریف ان کی بیاں؟ وہ کہاں میں کہاں میں خطاکار وہ رحمتِ بے کراں، وہ کہاں میں کہاں میں کہ رسوائے مخلوق و ننگِ جہاں، وہ کہاں میں کہاں ان کی تعریف کرتی ہے حق کی زباں، وہ کہاں میں کہاں وہ ہیں محبوبِ خُلّاقِ کل انس و جاں، وہ کہاں […]

کیجیے کس زباں سے شکرِ خدا

کِیں عطا اس نے نعمتیں کیا کیا ہر سرِ مُو ہو گر ہزار زباں ہر زباں سے کروں ہزار بیاں مُو برابر نہ ہو سکے تقریر حمدِ خلاق و شکرِ رب قدیر ہے و معطی و منعم و وہاب جس کی رحمت کا کچھ نہیں ہے حساب ہیں عنایاتِ ایزدِ غفار یوں تو ہم سب […]

مری دھوپ تم مری چھاوں تم مری سوچ تم میرا دھیان تم

تمہی تم ہو میرے وجود میں مرا حسن تم مری شان تم غم ہجر و شوق وصال پر ، مرے عشق کے خدوخال پر مرے خواب میرے خیال پر، مرے حال پر نگران تم مجھے تم ملے تو خدا ملا ، اور اسی سے اپنا پتہ ملا یہ سرا ملا وہ سرا ملا ، یہ […]