صبا کو کس نے چمن میں سبک خرام کیا

سحر کے وقت ستاروں کو ہم کلام کیا ترے ہی عشق نے بخشی ہے اس کو آزادی جبھی تو دل نے خرد کو بھی زیرِ دام کیا بدلتے رہتے ہیں شام و سحر سبھی موسم کہ گردشوں کو ازل سے یونہی مدام کیا لکھی ہیں کس نے یہ آبِ رواں پہ تحریریں ہر ایک قطرہ […]

اک نور سا تا حد نظر پیشِ نظر ہے​

میں اور مدینے کا سفر پیشِ نظر ہے​ ہر چند نہیں تاب مگر دیکھیے پھر بھی​ وہ مطلع انوارِ سحر پیشِ نظر ہے​ جو میرے تخیل کے جھروکے میں کہیں تھا​ صد شکر وہ مقصودِ نظر پیشِ نظر ہے​ بخشش کا وسیلہ ہے ہر اک اشکِ ندامت​ کچھ خوف ہے باقی ، نہ خطر پیشِ […]

کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرے آقا نےعزت بچالی

فردِ عصیاں مری مجھ سے لے کر، کالی کملی میں اپنی چھپالی وہ عطا پر عطا کرنے والے اور ہم بھی نہیں ٹلنے والے جیسی ڈیوڑھی ہے ویسے بھکاری، جیسا داتا ہے ویسے سوالی میں گدا ہوں مگر کس کے در کا؟ وہ جو سلطان کون و مکاں ہیں یہ غلامی بڑی مستند ہے، میرے […]

چاند گر آپ کے تلووں کا نظارہ کرلے

دعوئ حسن سے پھر خود ہی کنارہ کرلے اک طرف پائے شہ دیں کو اٹھا کر رکھ دوں دوسری اور تو کنعان ہی سارا کرلے تجھ کو گر حسن حقیقت کی طلب ہے خورشید ان کی چوکھٹ کو ذرا جاکے بہارا کرلے روسیہ ہو کے بھی گر حسن کا طالب ہے تو حسن بے مثل […]

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

جیسے میرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی یہ شانِ لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی اے ظرفِ نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے سرکار کا جلوہ ہے تماشا نہیں کوئی یہ تجربہ ایمان ہے اے رحمتِ عالم فریاد تمہارے سوا سنتا نہیں کوئی یہ طُور سے […]

جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا

اس کو نہیں ہے خوف کوئی ماسواہ کا اس کا تو ہر فقیر ہے دنیا کا تاجور ہر تاجور فقیر ہے اس بادشاہ کا ڈالی ہے اس نے دہر کو زنجیر وقت کی گویا ہے یہ جو سلسلہ شام و پگاہ کا شاہد ہے اس پہ گردش لیل و نہار بھی مختار ہے جہان کے […]

اگرچہ دہر میں مسلم ذلیل و خوار ہے ساقی

مگر پھر بھی شرابِ ناز سے سرشار ہے ساقی ابھی تک ہچکچاتا ہے درِ باطل پہ جھکنے سے ابھی تک اس میں حق کی قوتِ اظہار ہے ساقی ابھی مستِ مئے ایماں ، ابھی محوِ عبادت ہے ابھی تک اس کے لب ہر وردِ استغفار ہے ساقی ابھی تک اس کے دل میں کچھ نہ […]

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​

آ دِل میں تُجھے رکھ لُوں اے جلوہ جَانَانَہ​ کِیوں آنکھ مِلائی تِھی کیوں آگ لگائی تِھی​ اب رُخ کو چُھپا بیٹھے کر کے مُجھے دِیوانہ​ اِتنا تو کرم کرنا اے چِشمِ کریمانہ​ جب جان لبوں پر ہو تُم سامنے آ جانا​ اب موت کی سختِی تو برداشت نہیں ہوتِی​ تُم سامنے آ بیٹھو دم […]

جس بات میں اللہ کی تعریف ہو شامل​

وہ بات پسندیدہ ہے ہر بات سے بڑھ کر​ اچھے تو بہت لگتے ہیں نظروں کو ہماری​ جچتے نہیں ہرگز مگر اس ذات سے بڑھ کر​ یہ ارض و سما سات بنائے ہیں اسی نے​ قادر ہے ، بنا سکتا ہے وہ سات سے بڑھ کر​ دکھ تو ہمیں طاقت سے زیادہ نہیں دیتا​ ہاں […]

شہِ کونین کے عاشق حضوری میں رہے اکثر

نگاہِ یار کے طالب تجلی میں رہے اکثر تصور محفلِِ نوری اڑا کے لے گئے ذاکر پرندے بھی قفس سے ایسی دوری میں رہے اکثر حریمِِ ناز کے جوشہر منڈلاتے ہیں متوالے وہ شیدا قبل اس سے خوابِ نوری میں رہے اکثر مسافر گرمیِ خورشید کی شدت سے گھبرائے مصائب میں انہی کے دل صُبوری […]