رسولِ محترم ختم‌النبیّین

(ترکی نعت) رسولِ محترم ختم‌النبیّین کلیدِ مخزنِ گنجینهٔ دین فرید‌الدّهر علمِ کُن فکانَ وحیدالعصر اَسرارِ نهانه یاقالدان شرع ایله روشن چراغې ائریدی اهلِ کفرۆڭ باغرې یاغې قېلوپدور اۏل مهِ بُرجِ فضائل مقامِ قُربِ أَوْ أَدْنی‌ٰیې منزل قاشې حقّېنده نازل قَابَ قَوْسَیْن که اۏلدور غُرّهٔ غرّایِ عیدین یۆزیدۆر لمعهٔ نورِ الٰهی خطېدور حُجّتِ ترکِ مناهی مُعلّی‌ٰدور […]

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے

"​میں ہوں بندہ مرا خدا تُو ہے”​ غیر کے پاس کس لیے جاؤں تُو ہی والی ہے، آسرا تو ہے آرزو اور کچھ نہیں میری میرا بس ایک مدعا تُو ہے باپ سے بڑھ کے پالنے والے ماں سے بڑھ کر بھی چاہتا تُو ہے میرا ظاہر ہے تیری نظروں میں میرا باطن بھی دیکھتا […]

اوجِ فلک پہ مہرِ درخشاں تمہیں سے ہے

یہ بزمِ ماہ و انجمِ تاباں تمہیں سے ہے بطنِ صدف میں گوہرِ رخشاں تمہیں سے ہے ابرِ کرم ہو قطرۂ نیساں تمہیں سے ہے فرشِ زمیں پہ خلقتِ انساں تمہیں سے ہے دو روزہ زندگی کا یہ ساماں تمہیں سے ہے بوئے گل و نسیم خراماں تمہیں سے ہے کیفِ بہار و رنگِ گلستاں […]

کب علم میں اتنی وسعت ہی

کب عقل میں اتنی قوت ہی کب فکر میں اتنی رفعت ہی ہے مدحِ نبی پُر دقت ہی الصبح بدا من طلعتہٖ واللیلُ دجیٰ من وفرتہٖ وہ عفو و کرم وہ رافت ہی وہ پیکرِ لطف و شفقت ہی اللہ کی وہ ہے رحمت ہی کل عالم کو وہ نعمت ہی الصبح بدا من طلعتہٖ […]

لے کے نامِ خدا گرم گفتار کر توسنِ فکر اے شاعرِ خوش نوا

جذبۂ شوق و جوشِ عقیدت سے لکھ نعتِ سرکارِ طیبہ شہِ دوسرا سارے عالم میں تھی جہل کی تیرگی روحِ انساں سکوں سے تھی ناآشنا پھیلی صلِّ علیٰ ہر طرف روشنی بدرِ کامل وہ جب جلوہ گستر ہوا نورِ ایماں سے معمور دل ہو گئے اور اللہ اکبر کی گونجی صدا پتھروں کے صنم گر […]

اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا

جب اس نے ہاتھ میں خنجر اٹھایا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ہماری قسمتوں نےحال بدلا، ستارہ کیسے اپنی چال بدلا؟ جو ہاتھوں کی لکیروں کو ٹٹولا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا

موزوں کلام میں جو ثنائے نبی ہوئی

تو ابتد سے طبع رواں منتہی ہوئی ہر بیت میں جو وصفِ پیمبر رقم کیے کاشانۂ سخن میں بڑی روشنی ہوئی ظلمت رہی نہ پر توِ حسنِ رسول سے بیکار اے فلک شبِ مہتاب بھی ہوئی ساقی سلسبیل کے اوصاف جب پڑھے محفل تمام مست مے بیخودی ہوئی دل کھول کر رسول سے میں نے […]