بہت ہی لُطف آتا تھا پڑے رہ کرمدینے میں

بڑا ہی خوشنُما لگتا تھا ہر منظر مدینے میں وہاں کے پھول کیا کانٹے بھی تھے خوشتر مدینے میں بلالو پھر مجھے اے شاہِ بَحر و بَر مدینے میں ’’ میں پھر روتا ہوا آؤں ترے در پر مدینے میں‘​‘​ مرے اللہ نے رکّھا ہے وہ جوہر مدینے میں سُکون و چین ملتا ہے تو […]

کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے

تجھ سا بے سایہ نظر آیا نہ دارین میں ہے عین ملتا ہے جو رب سے تو عرب بنتا ہے اک حقیقت ہے جو پوشیدہ اسی عین میں ہے سر تو بس حکم پہ جھکتا ہے سوئے بیت حرم سجدہ دل رخِ محبوب کے قوسین میں ہے عرشِ اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے ان […]

یہ کہتی ہیں فضائیں، زندگی دو چار دن کی ہے

مدینہ دیکھ آئیں، زندگی دو چار دن کی ہے سنہری جالیوں کو چُوم کر کچھ عرض کرنا ہے مچلتی ہیں دُعائیں، زندگی دو چار دن کی ہے غمِ انساں کی اِک صُورت عبادت خیز ہوتی ہے کِسی کے کام آئیں، زندگی دوچار دن کی ہے وہ راہیں ثبت ہیں جن پر نشاں پائے محمد کے […]

در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائے کس طرح​

چھوڑ کے آپ کا دیار جائیں تو جائیں کس طرح​ آنکھ کو گر منا لیا ، دل کو منائیں کس طرح​ فصل بہار لٹ چکی پھول کھلائیں کس طرح​ چوم کے خاک طیبہ ہم بھول گئے تھے سارے غم پھر سے غم حیات میں دل کو پھسائیں کس طرح​ آپ کے در کی حاضری اہل […]

اے کاش وہ دن کب آئیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

دامن میں مرادیں لائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے بیتابی الفت کی دھن میں ہم دیدہ ودل کے بربط پر توحید کے نغمے گائیں گے جب ہم مدینہ جائیں گے تھامیں گے سنہری جالی کو چومیں گے معطر پردوں کو قسمت کو ذرا سلجھائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں‌گے زم زم میں […]

یا صاحب الجمال و یا سید البشر

یا صاحب الجمال و یا سید البشر من وجہک المنیر و لقد نور القمر لا یمکن الثناء کما کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ترجمہ اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں […]

میں تیرا فقیر ملنگ خدا

‏میں تیرا فقیر ملنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا ‏خوشبو کی طرح ہر چند رہوں تری مٹھی میں ہی بند رہوں تری یاد سے بہرہ مند رہوں گم تجھ میں تری سوگند رہوں ترا نور ترا آہنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا ‏تو دن میں ہے تو رات میں ہے ہر […]

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

محبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں تبھی سے ماہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کا قریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں لگتا نہ جانے اتنی کڑواہٹ کہاں سے آ گئی مجھ میں کرے […]