(بدن)

یہ تارِ عنکبُوت کہ بدن کہا گیا جسے بڑا عجیب جال ہے کہ جس کی زد میں آ گئے تو جیسے ایک ہاتھ نے تمام منطقیں بجھا کے راکھ میں سمیٹ دیں شعور کی بچھی ہوئی سبھی صفیں لپیٹ دیں بدن ہے ایک شعبدہ کہ جس کے دائرے میں ہر فریب بھی یقین ہے خطا […]

تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں

کس طور سے لٹتی ہوئی جاگیر سنبھالوں جھنکار کی آواز بھی ہے جرم ، سو اب میں پازیب کبھی ، حلقہ زنجیر سنبھالوں تو کون ہے قاتل کہ مسیحا ہے کُھلے تو میں کاسہ امید کہ شمشیر سنبھالوں ٹھہرا ہو رسومات کو جب عجز بھی زلت دستار سنبھالوں کہ دساتیر سنبھالوں اب سینہ صد چاک […]

بلغ العلےٰ بکمالہٖ​

بلغ العلےٰ بکمالہٖ​ کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ​ حسُنت جمیعُ خِصالہٖ​ صلو علیہ و آلہٖ​ ​ ترجمہ​ ​ پہنچے بلندیوں پہ ، وہ اپنے کمال سے​ چھٹ گئے اندھیرے آپ کے حسن و جمال سے​ آپ کی سبھی عادات مبارکہ اور سنتیں بہت پیاری ہیں​ آپ پر اور آپ کی آل پر سلام ہو​

جذبۂ عشق نے سینے میں مچلنا سیکھا

آپ آئے تو زمانے نے سنبھلنا سیکھا گُنگ لمحوں کو ہوئی قوتِ اظہار عطا دامنِ خیر میں حق بات نے پلنا سیکھا کفر اور شرک کے سب بُت ہوئے ریزہ ریزہ حق کے انوار میں ظلمات نے ڈھلنا سیکھا پہنا انسان نے اس وقت لباسِ عظمت سایۂ خیر میں جب صِدق نے پلنا سیکھا پائی […]

ان کے لئے میں زندہ رہوں گا، ان کے لئے مر جاؤں گا

زور لگا لے تُو اے دنیا! تیرے ہاتھ نہ آؤں گا موتیوں جیسے آنسو میں نے روک رکھے ہیں آنکھوں میں یہ آنسو میں روضہ اطہر پر جا کر برساؤں گا دنیا مجھ کو پاگل سمجھے، میں کیا جانوں دنیا کو میرے پیارے کملی والے میں تیرے گن گاؤں گا تیرے عدو کو زندہ دیکھوں، […]

ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمد کی

ابد لمحہ محمد کا ازل ساعت محمد کی جمالِ رحمتہََ للعالمیں رحمت محمد کی سراسر سورۂ رحمان ہے صورت محمد کی الف اور لام میم آیا ہے توصیفِ محمد میں خمِ زلفِ نبی لام اور الف قامت محمد کی عیاں ہوتی رہی ہے کائناتِ لفظ و معنٰی میں کبھی صورت محمد کی کبھی سیرت محمد […]

مانگنے سے قبل ہی منشا میسّر ہو گیا

جو کہیں ممکن نہ تھا، وہ ان کے در پر ہو گیا چشمۂ حکمت رواں تھا ان کی چوکھٹ پر سدا جس کو اک قطرہ ملا وہ خود سمندر ہو گیا نرمیِ کردار کے تابع ہوا ہر سخت دل ضربِ رحمت جب پڑی، پتھّر میں بھی در ہو گیا اُن کی نورانی جبیں کو دیکھنا […]

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیلِ راہِ نجات تھا اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا میں ترے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا ترے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا […]

حسن دھرتی پہ ہی خلد کا دیکھ لے

چل مدینے کی نوری فضا دیکھ لے دیکھنا ہے اگر جلوۂ مصطفٰی کھول کر سورۂ و الضحٰی دیکھ لے دردِ فرقت میں ہے زندگی کا مزہ دردِ فرقت کا لے کے مزہ دیکھ لے اب تڑپنا بھی کیا اے مری چشمِ نم سامنے وہ ہے گنبد ہرا دیکھ لے مشعلِ راہ کی گر ہے حاجت […]

شوقِ بے حد، غمِ دل ، دیدہ تر مل جائے

مجھ کو طیبہ کے لیے رختِ سفر مل جائے نامِ احمد کا اثر دیکھ جب آئے لب پر چشمِ بے مایہ کو آنسو کا گُہر مل جائے چشمِ خیرہ نگراں ہے رُخِ آقا کی طرف جیسے خورشید سے ذرے کی نظر مل جائے یادِ طیبہ کی گھنی چھاوں ہے سر پر میرے جیسے تپتی ہوئی […]