اَزل سے آپ کا اور آپ کے دَر کے غلاموں کا

ہے دل میں احترامِ لاشعوری یا رسول اللہ سفر میں دو برس پہلے جو فرمایا کرم مجھ پر مِرا دل بھی ہے جلوہ گاہِ طوری یارسول اللہ میں اُمیدِ شفاعت لے کے بیٹھا ہُوں مِرے آقا کرم ہو یہ تمنا بھی ہو پوری یا رسول اللہ ندامت سے ہُو پانی پانی کِس منہ سے وہاں […]

امینِ عرشِ انجم ہا سرائے کذب و ظلمت پر ظہورِ زینۂ صادق

خیالِ خامِ خامہ ہے کہ خوابِ خوابِ خوابیدہ‘​ رخ آئینۂ صادق امینِ عرشِ انجم ہا یہ ماہِ ماہِ شب شایاں یہ آبِ آبِ نم دیداں یہ حرفِ حرفِ سیپارہ یہ ہیں اعرابِ ضو افشاں لب گنجینۂ صادق امینِ عرشِ انجم ہا گدائے بوسۂ گلگوں جبینِ کج خطوط آرا گدائے دیدِ یک کوزہ نگاہِ نارسائے دل […]

اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں

!اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں اب مَیں چلتا ھُوں، اجازت ھے، میاں! ؟ عشق ھے، یہ کوئی مجبوری نہیں !دیکھ لو، جیسے سہُولت ھے، میاں مَیں یہاں تک تُجھے لے آیا ھُوں !اس سے آگے تری ھمّت ھے، میاں خیر تُم نے تو کِیا جو بھی کِیا !اپنے دل پر مجھے حیرت ھے، […]

یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر

مرے سبھی رفقائے کرام! عشق بخیر دیار ہجر کی سونی اداس گلیوں میں پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق بخیر سرک گیا جو ذرا خواب گاہ کا پردہ فلک سے بول اُٹھا ماہِ تمام عشق بخیر میں کر رہا تھا دعا کی گزارشیں اس سے سو کہہ گئی ہے اداسی کی شام عشق بخیر […]

ہر طرف کائنات میں تم ہو

صرف بزمِ حیات میں تم ہو کچھ نہ تھا کائنات میں تم تھے کچھ نہیں کائنات میں تم ہو ہر عدم ہر وجود تم سے ہے یعنی ہر نفی ہر ثبات میں تم ہو اور کچھ بھی نظر نہیں آتا میں ہوں یا کائنات میں تم ہو حق و باطل نہیں ہیں ایک مگر کعبہ […]

ہجوم رنگ ہے میری ملول آنکھوں میں

بسا ہےجب سے ریاضِ رسول آنکھوں میں تصورات کے صحرا میں وہ حرم ابھرا کھلے گلاب میری دھول دھول آنکھوں میں فضائے فکر و نظر دُھل کے ہوگئی اُجلی ہوا وہ رحمتِ حق کا نزول آنکھوں میں کہیں جو حد سے بڑھا میرا حبسِ محرومی امڈ پڑا وہیں ابرِ قبول آنکھوں میں غم حیات ، […]

ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے

مگر ھمیں ایسا بُت مِلا ھے کہ بے وقوفی نہیں کریں گے مزارِ غالب کی ساری اینٹوں سے اِس قدر ھے ھمیں عقیدت کہ جنگ چِھڑ بھی گئی تو دِلّی پہ گولہ باری نہیں کریں گے اگر حکومت تُمہاری تصویر چھاپ دے نوٹ پر، مِری دوست تو دیکھنا تُم کہ لوگ بالکل فضول خرچی نہیں […]

گرچہ مہنگا ھے مذھب، خُدا مُفت ھے

اک خریدو گے تو دُوسرا مُفت ھے کیوں اُلجھتے ھو ساقی سے قیمت پہ تُم ؟ دام تو جام کے ھیں، نشہ مُفت ھے آئنوں کی دُکاں میں لکھا تھا کہیں آپ اندھے ھیں تو آئنہ مُفت ھے اُس نے پُوچھا کہ پازیب کتنے کی ھے؟ سارا بازار چِلّا اُٹھا: مُفت ھے آخری سانس کے […]