کہانی ختم ھوگی ؟ یا تماشا ھونے والا ھے ؟

کسے معلُوم ھے فارس یہاں کیا ھونے والا ھے پرندے، چیونٹیاں اور لوگ ھجرت کرتے جاتے ھیں ھمارے شہر میں کیا حشر برپا ھونے والا ھے ؟ ذخیرہ کرلو آنسُو اپنی آنکھوں کے کٹوروں میں یہاں اب پانی مہنگا، خُون سستا ھونے والا ھے تو کیا ھم لوگ پھر سے دھوکا نامی تیر کھائیں گے […]

کہانی بحرین کی

مشاعرہ تو دلِ ناتواں نے خوب کِیا   محبت حق نہیں احسان ھوتا ھے۔ یہ ریشم سی ملائم بات سمجھ آجائے تو شب و روز سہل ھوجائیں۔ ھم پڑھنے تو مشاعرہ گئے تھے مگر اھلِ بحرین نے ایسی فراخ دلی اور وسیع القلبی سے ھم پر محبت کے احسانات کیے کہ دھیان کی راھگزاروں پر […]

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کف پا تیرا لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ھےتجھ سے رات باقی تھی […]

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی […]

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم منہدم کس نے الہٰی قصر کسریٰ کردیا کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم اور غلاموں کو زمانے […]

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو

جلوہ طراز اِدھر بھی تو ، روح نواز اُدھر بھی تو ایک نگاہ میں‌جلال، ایک نگاہ میں جمال منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تو عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے حاکم ہر دعا بھی تو، بارگہ اثر بھی تو پردہء شب میں‌ ہے نہاں، نورِ سحر میں ہے عیاں […]

پہلے پُکارتے تھے مُجھے گالیوں کے ساتھ

پھر تھک گئے، بُلانے لگے تالیوں کے ساتھ اِن لڑکیوں کے بھیس میں پریاں بھی ھیں بہت مت بیٹھیو اُداس بدن والیوں کے ساتھ چَھن چَھن کے آ رھی تھی اُس اُجلے بدن کی آنچ پوشاک تھی سیَاہ مگر جالیوں کے ساتھ ھمدم نہ ھو تو کیا بھلا پینے کا فائدہ ؟ بیٹھا ھُوں کب […]

وداعِ یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر […]