عید پھیکی لگ رھی ھے، عشق کی تاثیر بھیج

آ گلے مِل یا لباسِ عید میں تصویر بهیج تیری خُوشبو اور کھنَک مَیں خط سے کرلُوں گا کشید چُوڑیوں والے حنائی ہاتھ کی تحریر بھیج دیکھ کر ویران گلیاں خوف آتا ھے مُجھے اے خُدا ! کوئی گداگر یا کوئی رہگیر بھیج میری آنکھوں کو نہ دے آدھی ادھوری بخشِشیں خواب واپس چھین لے […]

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین

دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں اور جب […]

سکون پایا ہے بے کسی نے حدودِ غم سے نکل گیا ہوں

خیالِ حضرت جب آ گیا ہے تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں تلاشِ جاناں میں کتنی منزل خدا ہی جانے نکل گیا ہوں حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو تھی بہارِ خلدِبریں ملی تو بچا کے دامن نکل گیا […]

سلام علیک اے نبی مکرم

مکرم تر از آدم و نسل آدم سلام علیک اے ز آبائے علوی بصورت مؤخر بمعنی ٰ مقدم سلام علیک اے ز اسمائے حسنہ جمال تو آئینہ اسم اعظم ز سعی تو شد فتح ابواب معلق ز نطق تو شد کشف اسرار مبہم توئی یا رسول اللہ آں بحر رحمت کہ باشد محیط از عطائے […]

سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں

ہمیں بھی دیکھیئے آقا ، خطا کاروں میں ہم بھی ہیں ہمارے سامنے مسند نشینوں کی حقیقت کیا غلامان نبی کے کفش برداروں میں ہم بھی ہیں کبھی دنیا کے ہر بازار کو ہم نے خریدا تھا بکاؤ مال اب دنیا کے بازاروں میں ہم بھی ہیں کرم اے رحمت کونین ان کو پھول بنوا […]

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا بند آنکھو وہ چلے آئیں تو وا ہو جانا اور یوں پھوٹ کے رونا کہ فنا ہو جانا عشق میں کام نہیں زور زبردستی کا جب بھی تم چاہو جدا ہونا جدا ہو جانا تیری جانب ہے بتدریج ترقی میری میرے ہونے کی ہے معراج ترا […]

خواھش ھی نہیں کوئی کہ مجھ سے رھیں سب خُوش

دن رات مَیں رھتا ھُوں ترے غم کے سبب خُوش تُو تنگ بہت تھا مِرے اظہارِ جنُوں سے لے، آج سے مَیں بُھول گیا تیری طلب، خُوش ؟؟؟ تُو عشقِ مجازی مِرا، تُو عشقِ حقیقی تُو خُوش ھے تو مَیں شاد ھُوں، تُو خُوش ھے تو رب خُوش

خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں

خاک اُڑتی ہے رات بھر مُجھ میں کون پھرتا ہے در بدر مُجھ میں مُجھ کو خود میں جگہ نہیں مِلتی تُو ہے موجود اِس قدر مُجھ میں موسمِ گِریہ ! اِک گُذارش ہے غم کے پکنے تلک ٹھہر مُجھ میں بے گھری اب مرا مُقدر ہے عشق نے کرلیا ہے گھر مُجھ میں آپ […]