جبیں میری ہے اُن کا آستاں ہے
سرُور و کیف و مستی کا سماں ہے ہویدا آج ہرسّرِ نہاں ہے ظفرؔ ہر رازِ سربستہ عیاں ہے
معلیٰ
سرُور و کیف و مستی کا سماں ہے ہویدا آج ہرسّرِ نہاں ہے ظفرؔ ہر رازِ سربستہ عیاں ہے
چھیڑ حضرت کے شمائل اے دل مگر اتنا تجھے احساس رہے سخت مشکل ہے یہ منزل اے دل نارسا فکرِ سخنور ہے یہاں وہ تو ہیں خلق کا حاصل اے دل بے شمار ان کی عنایات اے جاں بے کراں ان کے فضائل اے دل نہ کوئی ان کا محاسن میں شریک نہ کوئی ان […]
مکّے میں تو کھو دی تھی، مدینے سے مِلی ھے تُو دیکھ تو آقا کی عنایت کا سلیقہ خیرات یہاں کتنے قرینے سے مِلی ھے
یہ محبت تو مجھے کوئی وبا لگتی ہے روز آتی ہے میرے پاس تسلی دینے شب تنہائی ! بتا ، تو میری کیا لگتی ہے ایک فقط تو ہے جو بدلا ہے دنوں میں ورنہ لگتے لگتے ہی زمانے کی ہوا لگتی ہے آنکھ سے اشک گرا ہے سو میاں ! ہاتھ اٹھا تارہ ٹوٹے […]
مجھے لگتا ہے پاکستان میں سیاست ‘ مذہب یا کسی بھی اختلافی موضوع پہ بات کرنا فقط خود کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔ اور پھر میں اس بات پہ یقین رکھتی ہوں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ایک ڈیوٹی جو ہماری ہے ہی نہیں ہم خواہ مخواہ خود کو اسکا ماہر کیوں […]
زخمی جو ہو چُکا ہو کسی کی نگاہ کا
کیا کیا گُلاب رقص کُناں رھگذر میں تھا بادِ جنُوں کے ساتھ مَیں دم دم سفر میں تھا ایک آدھ شام گذری مئے لالہ گوں کے ساتھ دو چار دن پڑاؤ پرندوں کے گھر میں تھا کُچھ دن دیارِ ماہ وشاں میں بسر کیے کچھ دن مرا قیام محبت نگر میں تھا
تُجھ کو آنا ھے تو اے یار ! اسی آن میں آ مَیں ترے سارے گُناھوں کی سزا بُھگتُوں گا میرے پاس آجا ! بھلے حالِ پشیمان میں آ
موسم اس واسطے اچھا ھے کہ تُو سیر کرے
کچھ اب کے اور ھے ہجرانِ یار کا موسم یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم یہی ھے جبر، یہی اختیار کا موسم