ہمارے پہلے ہی موسم نے ہم کو توڑ دیا
مگر تمہارے بدن میں لچک بہت ہے ابھی
معلیٰ
مگر تمہارے بدن میں لچک بہت ہے ابھی
ہم کسی رُت میں بھی ہرے نہ ہوئے
ہے پھول صرف وہ جو سرِ زلف یار ہو
اچھے موسم میں جھڑ رہا ہوں میں
پارہ بھرا ہوا ہے دلِ بیقرار میں
تنہائیوں کا جشن منانا پڑا ہمیں
سب تیرے بچھڑنے کے اشارے ہیں کم و بیش
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا
اپنے اپنے مزاج کا موسم