تمہاری یاد سے موسم خراب ہوتا ہے
ہر شب مری روح کا احتساب ہوتا ہے
معلیٰ
ہر شب مری روح کا احتساب ہوتا ہے
دل کے باہر بھی کوئی تیرے برابر نہ ہوا
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دُھواں لکھتے ہو
لیکن یہ جیسے پہلے تھے ویسے کہاں ہیں لوگ؟
خوش ہوئی وحشت غم جب رسن و دار ملے
کر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے
تم کہو تو یہی دو نیم کیئے دیتے ہیں
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
یہ کوئی چال ہے ! بھونچال ہے میاں