پڑھتے ہیں ثنا آپ کی کرتے ہیں رقم بھی

سرکارِ مدینہ کے غلاموں میں ہیں ہم بھی اف حسنِ سراپائے نبی رشکِ قمر ہے ہے اپنی مثال آپ خوشا حسنِ شیم بھی اب بھی نہ یقیں آئے جسے ہے وہ نگوں بخت کھائی ہے رسالت پہ مرے رب نے قسم بھی اڑتا ہے خداوند کی توحید کا پرچم ساتھ اس کے ہے پراں شہِ […]

وہ چہرۂ دلکش صلِّ علیٰ وہ سیرتِ اقدس کیا کہنا

دیکھے جو کوئی رخ یا سیرت دیکھا ہی کرے بس کیا کہنا ہر بات جو ان کے منہ کی ہے خود دل میں جگہ کر لیتی ہے الفاظ مرصع سب کے سب با توں میں گھلا رس کیا کہنا صحبت میں نبی اکرم کے انسان بنے کندن لاکھوں کندن پہ ہی کیا موقوف اکثر خود […]

وہ جب خیرِ مجسم ہادی قوم و مَلَل آئے

جبینِ لات و عزّیٰ پر پریشانی سے بل آئے خدا کی صنعتِ تخلیق کے ہیں نقشِ اول وہ پہن کر خلعتِ ہستی وہی پہلے پہل آئے صفات و ذاتِ رب کی کب خبر تھی اہلِ دنیا کو وہ بن کر کاشفِ اسرارِ ذاتِ لم یزل آئے بدل کر انبیاء آتے رہے ہیں بزمِ ہستی میں […]

نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے

نبی کی نعت سے مجھ کو شغف ہے زمیں ہو یا فلک یا عرش و کرسی ضیائے ماہِ بطحا ہر طرف ہے رسائے عرشِ اعظم ہے وہی اک اسی محبوبِ حق کا یہ شرف ہے نہ ہو جس دل میں حبِ شاہِ بطحا گلِ بے نم ہے پتھر ہے خذف ہے ہے دنیا تنگ اب […]

نگاہِ رحمتِ پروردگار ہو جائے

لکھوں جو نعت وہی شاہکار ہو جائے خدنگِ عشقِ نبی دل کے پار ہو جائے سیاہ خانہ یہ آئینہ سار ہو جائے جو تیرے عشق کا سودا سوار ہو جائے فرار دل سے غمِ روزگار ہو جائے جو تیری راہ میں مٹ کر غبار ہو جائے بہ لوحِ دہر وہ اک یادگار ہو جائے وہ […]

نعتِ حضورِ پاک علیہ السلام ہے

سنئے بگوشِ ہوش ادب کا مقام ہے کوتاہ بیں خرد ہے تو فکر اپنی خام ہے توصیفِ خواجۂ دو سرا نا تمام ہے حمدِ خدا کے بعد ثنا کا مقام ہے نامِ خدا کے بعد محمد کا نام ہے احمد ہے اسمِ پاک محمد بھی نام ہے محبوبِ کبریا ہے وہ عالی مقام ہے رکھا […]

میں بساطِ شاعری کا نہیں کوئی فردِ ماہر

کما حقہٗ نبی کی میں محمدت سے قاصر سرِ بامِ رنگ و بو ہے وہ خوشا چراغِ آخر رہے جلوہ پاش جب تک یہ ہے عالمِ عناصر وہ خدا کا ہے پیمبر وہ ہے پاک نفس و طاہر وہ ہے بے عدیل عابد وہ ہے بے مثال ذاکر جو ملی ہے اس کے ہاتھوں وہ […]

میلادِ آنحضور کی تقریبِ عید ہے

تحریکِ نعت در دلِ عبد الحمید ہے نبیوں میں مصطفیٰ ہی وہ فردِ فرید ہے جس پر کہ ختم وحی خدائے وحید ہے وہ جانِ آرزو ہے دلوں کی امید ہے امت کی مغفرت کے لئے وہ نوید ہے حلقہ بگوش ان کا ہوا جو سعید ہے مانا نہ جس نے ان کو جہنم رسید […]

موسم کہ خوشگوار زِ باران و باد ہے

دل محوِ نعتِ خواجۂ فرخ نہاد ہے وہ جامع الصفات قریشی نژاد ہے پیکر ہے رحمتوں کا رقیق الفؤاد ہے بالغ نظر ہے مانعِ بغض و عناد ہے شمشیرِ حق ہے قاطعِ ظلم و فساد ہے سالار ہے جری ہے امیر الجہاد ہے پاؤں میں اس کے تاجِ سرِ کیقباد ہے اس کے سخن سخن […]

موسم کہ آج صبح سے وجد آفرین ہے

دل نغمہ سنجِ نعتِ شہِ مرسلین ہے آغوشِ آمنہ کا وہ دُرِ ثمیں ہے فرخ سِیر ہے قبلۂ دنیا و دین ہے کس درجہ کہئے وہ شہِ والا حسین ہے پاؤں کی اس کے خاک ہر اک حورِ عین ہے وہ عالی النسب ہے وہ بالا نشین ہے صلِّ علیٰ وہ حاصلِ دنیا و دین […]