پردیس میں رہ کے کوئی کیا پاؤں جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
معلیٰ
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلہ تسکین نہیں اور آس بہت ہے اُمیدِ یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو
نالے تو میں بہت کیے اُس بُت کے سامنے پتّھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے
ایسے اندھے سماج کی نہیں ہوں اچھے عیسی’ہو صاف کہتے ہو میں کسی بھی علاج کی نہیں ہوں پاس رکھ اپنے،، وصل ،، بھیک نہ دے بھوکی ایسے اناج کی نہیں ہوں کینہ رکھتی ہوں دل میں ،،انساں ہوں میں خدا کے مزاج کی نہیں ہوں عشق کی ایسی لت پڑی ہے کہ اب میں […]
اس پہ وہ شوقِ اذیت ہے کہ سبحان اللہ اپنی طاقت کے بھرم میں ہوئے فرعون تمام تیرے بھیجے ہوئے کمزور سے انسان ، اللہ خود تو ہم تیری کوئی بات نہیں مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر بات مری مان ، اللہ آج اس یاد کا کانٹا تو مرے دل سے نکال آج […]
کــہنے لگا کہ آہ مـــرا ہاتـــھ جـــل گیا
آنکھوں میں اُن کی تصویر کیسی جگمگ، کیسی تاباں میرے خوابوں کی تعبیر