زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو
سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے
معلیٰ
سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے
اپنی تنہائی کم و بیش خُدا جیسی ہے دو پللک بِیچ بدل جاتا ہے منظر کا فسُوں تیری دنیا بھی مری خواب سَرا جیسی ہے ہر کسی پر نہیں کُھلتا تیرے دیوانے کا شعر اِس کی بندش بھی ترے بند ِقبا جیسی ہے آئینہ خانہء حیرت میرا مسکن ہے سو تُو اپنی صورت پہ مری […]
کتنی حسین ہے ناں جوانی کی موت بھی
جہاں سجدہ کناں کون و مکاں ہے جبیں اپنی ظفرؔ اس در پہ رکھ دو حبیبِ کبریاؐ کا آستاں ہے
سخی دربار کی عظمت تو دیکھو خُدا داتا ہے قاسم ہیں محمدؐ انوکھے پیار کی عظمت تو دیکھو
تتلی تمہارے داو میں آئی نہ آئے گی کشتی کو کر کے آئی ہوں اللہ کے سپرد اب وقت کے بہاو میں آئی نہ آئے گی لڑکی میں سرکشی بھی ہے ضد بھی شعور بھی ماں باپ کے دباو میں آئی نہ آئے گی اب حق تو یہ ہے آپ مسیحائی چھوڑ دیں صاحب کمی […]
فرشتہ موت کا جب تاک پر لگا رہے گا میں بے خیالی میں ماروں گی ہاتھ ٹیبل پر اور ایک چشمہ مری ناک پر لگا رہے گا نجانے ہاتھ لگے گا وہ پارسل کس کے مرا تو دھیان مری ڈاک پر لگا رہے گا ہزار کام تھے جو روشنی سے ہو جاتے مگر وہ چاند […]
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
اور اب شاعری میں بھی نہیں ہو وصل کی خواہشوں سے نکلے تو ہجر کی بے بسی میں بھی نہیں ہو تم نے جب دوستی نہیں رکھی تو مری دشمنی میں بھی نہیں ہو میرے دل کے سکون کے موجب تم مری خودسری میں بھی نہیں ہو میں جو تم میں اگر کہیں نہیں ہوں […]