دیکھ یہ رونق ِدنیا جو خَلا جیسی ہے

اپنی تنہائی کم و بیش خُدا جیسی ہے دو پللک بِیچ بدل جاتا ہے منظر کا فسُوں تیری دنیا بھی مری خواب سَرا جیسی ہے ہر کسی پر نہیں کُھلتا تیرے دیوانے کا شعر اِس کی بندش بھی ترے بند ِقبا جیسی ہے آئینہ خانہء حیرت میرا مسکن ہے سو تُو اپنی صورت پہ مری […]

خوشبو کے بھید بھاو میں آئی نہ آئے گی

تتلی تمہارے داو میں آئی نہ آئے گی کشتی کو کر کے آئی ہوں اللہ کے سپرد اب وقت کے بہاو میں آئی نہ آئے گی لڑکی میں سرکشی بھی ہے ضد بھی شعور بھی ماں باپ کے دباو میں آئی نہ آئے گی اب حق تو یہ ہے آپ مسیحائی چھوڑ دیں صاحب کمی […]

خمیر خاک کا پھر خاک پر لگا رہے گا

فرشتہ موت کا جب تاک پر لگا رہے گا میں بے خیالی میں ماروں گی ہاتھ ٹیبل پر اور ایک چشمہ مری ناک پر لگا رہے گا نجانے ہاتھ لگے گا وہ پارسل کس کے مرا تو دھیان مری ڈاک پر لگا رہے گا ہزار کام تھے جو روشنی سے ہو جاتے مگر وہ چاند […]

تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو

اور اب شاعری میں بھی نہیں ہو وصل کی خواہشوں سے نکلے تو ہجر کی بے بسی میں بھی نہیں ہو تم نے جب دوستی نہیں رکھی تو مری دشمنی میں بھی نہیں ہو میرے دل کے سکون کے موجب تم مری خودسری میں بھی نہیں ہو میں جو تم میں اگر کہیں نہیں ہوں […]