ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ

ورنہ کھو دیتا اسے بھی دین کے اعدا کا رنگ اے محمد کے غلامو ہوش میں کب آؤ گے جم رہا ہے پھر جہاں میں قیصر و کسریٰ کا رنگ پیروی سنت سرکار میں رہتے جو تم دیکھتی دنیا کہ ہوتا اور ہی دنیا کا رنگ سبز گنبد سے جہاں میں روشنی ہی روشنی مر […]

خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

احرام کی مانند مرا دامن تر ہے نظارۂ فردوس کی یا رب نہیں فرصت اس وقت مدینے کی فضا پیش نظر ہے اس شہر کے ذرے میں مہ و مہر سے بڑھ کر جس شہر میں اللہ کے محبوب کا گھر ہے یہ راہ کے کنکر ہیں کہ بکھرے ہوئے تارے یہ کاہ کشاں ہے […]

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم

تو یہی آج کل سدھارے ہم مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب جا لگے گور کے کنارے ہم دن گذرتا ہے دم شماری میں شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم ہے مروت سے اپنی وحشت دور انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم زندگی بار دوش آج ہے یاں دیکھیں گے کل […]

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی […]

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں ایک نغمہ سا سنا تھا میں نے کون تھا شعلہ نوا یاد نہیں روز دہراتے تھے افسانۂ دل کس طرح بھول گیا یاد نہیں اک فقط یاد ہے جانا ان کا اور کچھ اس کے […]