کتنے منظر تھے جو اوجھل تھے مری آنکھوں سے
یار یہ نیند بھی سکتے کی طرح ٹوٹی ہے روز کہتی ہے نہیں یاد نہیں کرتی میں اپنی کومل بھی خدا بخشے بڑی جھوٹی ہے
معلیٰ
یار یہ نیند بھی سکتے کی طرح ٹوٹی ہے روز کہتی ہے نہیں یاد نہیں کرتی میں اپنی کومل بھی خدا بخشے بڑی جھوٹی ہے
دل نے ہر بار اداسی کی طرف داری کی میں نے بس حق کیلئے ایک صدا کی تھی بلند پر قبیلے نے بغاوت کی سند جاری کی
شب سے ناراض ہوں اس کے رخسار سے لب سے ناراض ہوں بھوک ہڑتال ہے جب سے ناراض ہوں ایک تجھ سے نہیں سب سے ناراض ہوں جب سے کھویا ہے دل تب سے ناراض ہوں کیوں نمازیں پڑھوں رب سے ناراض ہوں
وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا
تمہارا ہجر نبھایا تو سانولی ہوئی ہے
تو سارے خوشبو فروش اپنی دکان بھرتے ہمارے ملنے کی شرط شائد بہت کڑی تھی کہ جس کا تاوان عمر بھر خاندان بھرتے
ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے
لوگ سمجھیں گے مر گئی کومل
اس لئے چشمہ لگا ہے دور کا میں شب تاریک کا بجھتا چراغ اور وہ عاشق ہے رنگ و نور کا
میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے سو شب بخیر نہیں کہہ سکی میں آخر میں لرز رہے تھے مرے ہاتھ کانپتا تھا وجود حصار ذات میں کتنی دراڑیں پڑ گئی تھیں میں جانتی تھی کہ اگلی صبح اذیت ہے محبتوں کے گلابوں کی عمر اتنی تھی ابھی خزاؤں کی آمد ہے دل کے […]