میں آسمان پہ واپس نہ لوٹ آؤں ؟ خدا
زمین زادے مری بات ہی نہیں سنتے
معلیٰ
زمین زادے مری بات ہی نہیں سنتے
حکم عدولی کرنے والے میں بگڑی شہزادی ہوں
بس تین حرف یاد ہوئے عین ، شین ، قاف
میں چاہتی بھی یہی تھی کہ تم بچھڑ جاؤ ذرا سی دیر منانا چلو غنیمت ہے اب اس طرح کا بھی کیا عشق ، پاؤں پڑ جاؤ
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے
ہے کرب ایسا کہ جنموں جلی کہا جائے ملا تھا باغ میں کچھ دن قیام کا موقع لہذا شاخ سے ٹوٹی کلی کہا جائے فقط گناہ ہیں منسوب ہم سے ، باقی لوگ وہ پارسا ہیں کہ ان کو ولی کہا جائے یہاں پہ رہتا ہے قدرت کا اک حسیں شہکار تری گلی کو بھی […]
تمہارے لکھنے سے معتبر نام ہوگیا ہے
دل ہے سینے میں تو آخر کو دھڑک سکتا ہے
وہ محبت کے سبھی قول بدل لیتے ہیں وقت آتا ہے تو احساس کا در کھلتا ہے لوگ سانپوں کی طرح خول بدل لیتے ہیں آلہ ء قتل پہ ہونگے ترے ہاتھوں کے نشاں چل مرے دوست یہ پستول بدل لیتے ہیں چیخ پڑتے ہیں کہ کم ہو یہ اذیت ناکی وقت کیسا بھی ہو […]
مجھے کچھ دن تو رونے دو مری امید ٹوٹی ہے