ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں
تیرے الطاف بے سبب ہوئے ہیں ورنہ ہوتے کہاں گناہ معاف اُن کی مرضی ہوئی ہے تب ہوئے ہیں اُن کی بخشش رہی مدام بہ فیض ہم سوالی ہی کم طلب ہوئے ہیں رفتگاں، بے نشاں حقیقت تھے ترے ہونے سے جیسے سب ہوئے ہیں اِک ہوائے غضب میں اُڑ جاتے بچ رہے ہم کہ […]