ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
مجھے چشمِ بصیرت دے، مجھے نورِ بصر دے ترے گھر کی زیارت کی تمنا ہے مرے دل میں عطا کر عزم و ہمت اور خدارا بال و پر دے
معلیٰ
مجھے چشمِ بصیرت دے، مجھے نورِ بصر دے ترے گھر کی زیارت کی تمنا ہے مرے دل میں عطا کر عزم و ہمت اور خدارا بال و پر دے
تو اکبر ہے تو ارفع ہے، عظیم و محتشم ہے خطا کاروں کا تو ستّار ہے، رکھتا بھرم ہے ظفرؔ یادوں میں تیری منہمک ہے، چشم نم ہے
خدا انسان کے دل میں مکیں ہے کرو محسوس رب کو قلب و جاں میں جہاں رکھ دو جبیں اللہ وہیں ہے
ہے یہ منطق خدائے لم یزل کی علمداری ہر اِک جا عدل کی ہو جزا ملتی رہے حُسنِ عمل کی
جبیں میں ضو فشاں نورِ محمد، اُن کو دکھلایا خدا نے فرشتے گر گئے سجدے میں جب نورِ مبیں دیکھا زمیں پر ہے مرا نائب یہ سمجھایا خدا نے
میں مجرم روسیہ ہوں اور تو ستّار بھی غفار بھی ہے میرے جرم و سیہ کاری پہ رحمت تیری بھاری ہے کہ میں سب سے بُرا ہوں اور تو ستّار بھی غفار بھی ہے
ذرا سی آبجو میں، تو ہے بحر بیکراں مولا میں اُڑتا زرد پتا، تو مہکتا گلستاں مولا میں اِک بندۂ عاصی، تو کرم کا سائباں مولا
ثناء خوانوں کا مرکز گھر خدا کا ظفرؔ اُمت کی وحدت کا نشاں ہے سب انسانوں کا مرکز گھر خدا کا
محبت اپنے بندوں سے خدا کی محبت غیر فانی، جاودانی ہے اُمت سے حبیبِ کبریا کی
مجھے مشکلوں سے نکال دے مجھے سیدھی راہ پر ڈال دے مجھے اپنی چاہ میں ڈھال دے