حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

وہی ہے رہنما مجھ بے بصر کا تصور میں خدا کے رُوبرو میں ہوں رہتا سر خمیدہ، دست بستہ نہیں تیرے سوا معبود کوئی سمجھ جائے گا انساں رفتہ رفتہ محبت گر کرے انساں خدا سے رہے اس کو نہ کوئی ڈر نہ کھٹکا کرے انساں ہر انساں سے محبت ہے یہ منشور انساں کی […]

جو مشفق ہے جو مونس مہرباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

جو رحمت کا محبت کا جہاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے جو ہے مولا و معبودِ خلائق، جو ہے آقا و مسجودِ ملائک خدائے انس و جاں کروبیاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے کیا محبوبؐ اپنا جس نے پیدا، کیے کون و مکاں جس نے ہویدا وہ جو آفاق کی روحِ […]

تھا قصائی بیل میرا ، تھا یہ انقلاب اُلٹا

جو میں رات سویا اُلٹا تو یہ دیکھا خواب اُلٹا چھری رکھ کے بیل یک دم ہوا گائے سے یوں گویا کیا ذبح میں نے شاعر ، یہ ملا عذاب اُلٹا ہے دل اس کا پار پارہ تو جگر بھی اس کا چھلنی میں کباب کیا بناؤں ، ہوا دل کباب اُلٹا نہیں اس کے […]

تنگئ رزق سے ہلکان رکھا جائے گا کیا

دو گھروں کا مجھے مہمان رکھا جائے گا کیا تُجھے کھو کر تو تیری فِکر بہت جائز ہے تُجھے پا کر بھی تیرا دھیان رکھا جائے گا کیا کس بھروسے پہ اذیت کا سَفر جاری ہے دُوسرا مرحلہ آسان رکھا جائے گا کیا خوف کے زیرِاثر تازہ ہوا آئے گی اب دریچے پہ بھی دربان […]

تری فضیلت کو اس لئے بھی مرے حوالے سے جانا جائے

دیا ضروری ہے پہلے پہلے جلانے والے سے جانا جائے بہت غنیمت ہیں ہم سےملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے وگر نہ اپنا توشہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے شجر سے میں نے جو شاخ کاٹی شجر بنانے کی ٹھان لی ہے مری خطا کو خدارا اب تو مرے ازالے سے جانا […]

ترمیمِ خال و خد کا وسیلہ نہیں رہا

کوزہ اتر کے چاک سے گیلا نہیں رہا سائے کو رونے والے مسافر کو کیا خبر پھل بھی اب اس شجر کا رسیلا نہیں رہا اب تو ہمارے نام سے پہچانیے ہمیں اب تو ہمارا کو ئی قبیلہ نہیں رہا آباد کر دیا ہے بگولوں کو دشت نے اب رہ گزر میں کوئی بھی ٹیلہ […]

بیوی گو ایک عدد ہے ، حد ہے

کرتی ہر بات کو رد ہے حد ہے جھوٹے اب صاحبِ مسند ٹہرے اُن کی ہر بات سند ہے ، حد ہے سروقد لکھتے ہیں ایسوں کو یہاں جن کا دو فٹ نہیں قد ، ہے حد ہے جب کنوارے تھے تو کڑھتے تھے بہت اب کنواروں سے حسد ہے حد ہے شرک کا راگ […]

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے کسی بدن کی تمازت نڈھال کرتی ہے کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے نشست کے تو طلبگار ہی نہیں ہم لوگ ہمارے پاؤں سے کیوں پائدان کھینچتا ہے بدل کے […]

باغ سے جھولے اتر گئے

سندر چہرے اتر گئے وصل کے ایک ہی جھونکے میں کان سے بالے اتر گئے بھینٹ چڑھے تم عجلت کی پیڑ سے کچے اتر گئے لٹک گئے دیوار سے ہم سیڑھی والے اتر گئے گھر میں کس کا پاؤں پڑا چھت سے جالے اتر گئے ڈول وہیں پر پڑا رہا چاہ میں پیاسے اتر گئے […]

آئیں اب شاعری کی لے کر آڑ

اس غزل میں اگائیں ڑ کے پہاڑ سیر دشت سخن کی ایسے کریں کلک خامہ پہ ڈال جائے دراڑ کام کرتا نہیں ہے کوئی یہاں دفتروں میں ہے بس اکھاڑ پچھاڑ اپنی نظروں سے دیکھ باس ہے گر بند ہر گز نہ کان کے ہوں کواڑ اس کا لاہور سے تعلق ہے ہے تکلم میں […]