بس کہ در جانِ فگار و چشمِ بیدارم توئی
ہر کہ پیدا می شود از دُور، پندارم توئی بس کہ میری تار تار جانِ فگار اور چشمِ بیدار (راہ پر لگی آنکھوں) میں تُم ہی تُم سمائے ہوئے ہو اِس لیے دُور سے جو کوئی بھی ظاہر ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم ہو۔
معلیٰ
ہر کہ پیدا می شود از دُور، پندارم توئی بس کہ میری تار تار جانِ فگار اور چشمِ بیدار (راہ پر لگی آنکھوں) میں تُم ہی تُم سمائے ہوئے ہو اِس لیے دُور سے جو کوئی بھی ظاہر ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم ہو۔
ولیکن خسروِ دیوانہ را دیوانہ تر گرداں دروازے (پردے) سے باہر آ اور ہوشیار و عقلمند لوگوں کو (اپنا جلوہ دکھا کر) دیوانہ بنا دے اور خسرو دیوانے کو (جو پہلے ہی تجھے دیکھ کر دیوانہ ہو چکا ہے) دیوانہ تر بنا دے
آں را کہ دل سیاہ شد از نا گریستن اگر دل میں کوئی چمک کوئی روشنی کوئی جلا ہے تو وہ آہِ حسرت کی وجہ ہی سے ہے اور وہ کہ جن کے دل سیاہ ہو چکے ہیں اُن کے دلوں کی سیاہی(پشیمانیوں پر) آہ و بکا و گریہ و زاری نہ کرنے کی وجہ […]
حضورِ کبریا بیٹھے ہوئے ہیں خدا کے رُوبرو بندے خدا کے بفیضِ مصطفیٰ بیٹھے ہوئے ہیں خدا کے ساتھ ہی معراج کی شب حبیبِ کبریا بیٹھے ہوئے ہیں یہاں سب انبیا و اولیا بھی اُٹھا دستِ دعا بیٹھے ہوئے ہیں وہ مجذوب و قلندر سر بکف ہیں جو عاشق با خدا بیٹھے ہوئے ہیں شہیدوں […]
جس کی ہر بات ہے خدا کو قبول جس کے قبضہ میں دو جہان کا ملک جس کے بندوں میں تاجدار شمول جس پہ قرباں جناں جناں کے چمن جس پہ پیارا خدا خدا کے رسول جس کے صدقے میں اہل ایماں پر ہر گھڑی رحمتِ خدا کا نزول جس کی سرکار قاضیِ حا جات […]
منزل ہے بعید تھک گیا رہرو اب تیری طرف شکستہ حالوں کے رفیق ٹوٹی ہوئی آس نے لگائی ہے لو
گواہ ہیں دلِ محزون و چشمِ دریا بار طرح طرح سے ستاتا ہے زمرۂ اشرار بدیع بہر خدا حرمتِ شہِ ابرار مدار چشمِ عنایت زمن دریغ مدار نگاہِ لطف و کرم از حسنؔ دریغ مدار اِدھر اقارب عقارب عدو اجانب و خویش اِدھر ہوں جوشِ معاصی کے ہاتھ سے دل ریش بیاں میں کس سے […]
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے دھُوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے حُسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے ذرّۂ دشتِ مدینہ کی ضیا مہر کرے اچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے پیار سے لے […]
مثنوی در ذکر ولادت شریف حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری عیاں ہونے لگے انوارِ باری نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیں کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں […]
یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں جو غل پہنچا گرفتارانِ اُمت کے سلاسل کا ہے جمالِ حق نما بارہ اماموں کا جمال اس مبارک سال میں ہے ہر مہینہ نور کا خوف محشر سے ہے فارغ دلِ مضطر اپنا کہ ہے محبوبِ خدا شافعِ محشر اپنا داغ دل یادِ دہانِ شہ […]