معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا

جب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھا غم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مہ پارے بنے تیری ہیبت سے فلک کا مہ دو پارا ہو گیا اللہ اللہ محو حُسنِ روئے جاناں کے نصیب بند کر لیں […]

عشقِ تو کہ سرمایۂ ایں درویش است

ز اندازۂ ہر ہوس پرستے بیش است شورے است کہ از ازل مرا در سر بُود کارے است کہ تا ابد مرا در پیش است تیرا عشق کہ یہ اِس درویش کا (کُل) سرمایہ ہے اور یہ سرمایہ اتنا ہے کہ ہر ہوس پرست کے اندازوں سے زیادہ ہے۔ تیرے عشق کا جنون، ایسا جنون […]

عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے

سب ذرّے ہیں گر مہر، درخشاں ہے تو تُو ہے سب کو ہے خیال اپنا، نہیں کوئی کسی کا محشر میں اگر اُمتی گویاں ہے تو تُو ہے پروانہ کوئی شمع کا، بلبل کوئی گُل کا اللہ ہے شاہد، مرا جاناں ہے تو تُو ہے طالب ہوں ترا، غیر سے مطلب نہیں مجھ کو گر […]

شکر خالق کس طرح سے ہو اَدا

اک زباں اور نعمتیں بے اِنتہا پھر زباں بھی کس کی مجھ ناچیز کی وہ بھی کیسی جس کو عصیاں کا مزا اے خدا کیوں کر لکھوں تیری صفت اے خدا کیوں کر کہوں تیری ثنا گننے والے گنتیاں محدود ہیں تیرے اَلطاف و کرم بے انتہا سب سے بڑھ کر فضل تیرا اے کریم […]

سحر گاہی دُعا کردم کہ جانم خاکِ پائے اُو

شنیدم نعرۂ آمیں ز جان اندر دُعائے من سحر کے وقت میں نے دُعا کی کہ میری جان اُس کے قدموں کی خاک ہو جائے، اپنی دُعا کے اندر ہی میں نے آمین کا نعرہ سُنا اور یہ آمین کا نعرہ جان نے لگایا تھا

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

مرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئے تو اُنھیں سے دُور بھاگے جنھیں تجھ پہ پیار آئے مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہی مری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دے وہ […]