اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلک خدا کا مالک راج تیرا ہے زمانے میں حکومت تیری تیرے انداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو تری سب حسینوں میں پسند آئی ہے صورت […]

السلام اے خسروِ دنیا و دیں

السلام اے راحتِ جانِ حزیں السلام اے بادشاہِ دو جہاں السلام اے سرورِ کون و مکاں السلام اے نورِ ایماں السلام السلام اے راحتِ جاں السلام اے شکیبِ جانِ مضطر السلام آفتاب ذرّہ پرور السلام درد و غم کے چارہ فرما السلام درد مندوں کے مسیحا السلام اے مرادیں دینے والے السلام دونوں عالم کے […]

آوازۂ عشقِ من بہ ہر خانہ رسید

دردِ دلِ من بخویش و بیگانہ رسید اندر غمِ عشقِ تو بہر جا کہ رَوَم از دُور بگویند کہ دیوانہ رسید میرے عشق کا چرچا گھر گھر تک پہنچ گیا اور میرے دل کے درد سے اپنے بیگانے سبھی آشنا ہو گئے تیرے عشق کے غم میں (مارا مارا) میں جہاں کہیں بھی جاتا ہوں […]

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

آپ اپنے پہ قیامت کر لی میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا مرے اللہ نے رحمت کر لی ذکر شہ سن کے ہوئے بزم میں محو ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو مرے پیارے بڑی رحمت کر لی بال بیکا نہ ہوا پھر اُس کا آپ […]

کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں

اپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں تابِ نظارہ تو ہو ، یار کو کیوں کر دیکھیں آنکھیں ملتی نہیں دیدار کو کیوں کر دیکھیں دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیں اثرِ جلوۂ رفتار کو کیوں کر دیکھیں جن کی نظروں میں ہے صحرائے مدینہ بلبل آنکھ اُٹھا کر ترے […]

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کی آتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرم آج کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میں آتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرم آج نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہ اُس بزم میں کس […]

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف اُن کا عدو اسیرِ بَلائے نفاق ہے اُس کی زبان و دل میں رہے عمر بھر خلاف کرتا ہے ذکرِ پاک سے نجدی مخالفت کم بخت بد نصیب کی قسمت ہے بر خلاف اُن کی وجاہتوں میں کمی ہو محال ہے بالفرض اک زمانہ ہو اُن […]