دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
دے مرے درد کی دوا یا رب لاج رکھ لے گناہ گاروں کی نام رحمن ہے ترا یا رب عیب میرے نہ کھول محشر میں نام ستّار ہے ترا یا رب بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفار ہے ترا یا رب زخم گہرا سا تیغِ اُلفت کا مرے دل کو بھی کر […]
معلیٰ
دے مرے درد کی دوا یا رب لاج رکھ لے گناہ گاروں کی نام رحمن ہے ترا یا رب عیب میرے نہ کھول محشر میں نام ستّار ہے ترا یا رب بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفار ہے ترا یا رب زخم گہرا سا تیغِ اُلفت کا مرے دل کو بھی کر […]
جو کچھ ہو حسنؔ سب کا سزاوار ہوں میں پر اُس کے کرم پر ہے بھروسہ بھاری اللہ ہے شاہد کہ گنہگار ہوں میں
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دِکھانے کے مگر اُن کا کرم ذرّہ نواز و بندہ پرور ہے خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں یہ اُونچا گھر ہے اِس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد […]
کیوں اہلِ خطا کی ہیں حقارت کرتے بندے جو گنہگار ہیں وہ کس کے ہیں کچھ دیر اُسے ہوتی ہے رحمت کرتے
ہوتے ہیں کچھ اور ساماں الغیاث درد مندوں کو دوا ملتی نہیں اے دوائے درد منداں الغیاث جاں سے جاتے ہیں بے چارے غریب چارہ فرمائے غریباں الغیاث حَد سے گزریں درد کی بے دردیاں درد سے بے حد ہوں نالاں الغیاث بے قراری چین لیتی ہی نہیں اَے قرارِ بے قراراں الغیاث حسرتیں دل […]
مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو جلوہ سے تمہارے ہے عیاں شانِ خدا آئینۂ ذاتِ کبریائی تم ہو
بھیک کو مشرق سے نکلا آفتاب جلوہ فرما ہو جو میرا آفتاب ذرّہ ذرّہ سے ہو پیدا آفتاب عارضِ پُر نور کا صاف آئینہ جلوۂ حق کا چمکتا آفتاب یہ تجلّی گاہِ ذاتِ بحت ہے زُلفِ انور ہے شب آسا آفتاب دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کیے عارضِ انور ہے ٹھنڈا آفتاب ہے شبِ دیجور […]
بر سُرمہ مقدم شدنی گرد ندانی جب تک (تیرا) سر محبوب کی بازی گاہ اور اُس کی راہوں میں خاک نہ ہو جائے، تب تک تُو یہ نہ جان پائے گا کہ گرد اور خاک، سُرمے پر مقدم اور اُس سے بہتر کیسے ہو جاتی ہے
ہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا الٰہی رحم فرما خادمِ صدیق اکبر ہوں تری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا رُسل اور انبیا کے بعد جو افضل ہو عالم سے یہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ صدیق اکبر کا گدا صدیق اکبر کا خدا سے فضل پاتا ہے خدا کے فضل […]
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی کوئی تقدیر تو دیکھے اَسیرانِ محبت کی شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیوں کر ہو ہوائیں آتی ہیں […]