نعت گلزار مدینہ میں سناتے، جاتے

ہم بھی خوش بوئے محمد میں نہاتے جاتے در پہ محبوب کے کوثر کے تمنائی کو ہم بھی پیالے اُنہیں زم زم کے پلاتے جاتے کوئی مشکل تو نہیں تھا مرے محبوب خدا جلوہ گر ہوتے یہاں، عرش پہ آتے جاتے دل میں جلوے ہیں فروزاں ترے محبوب نبی پیاس آنکھوں کی مدینہ میں بجھاتے […]

نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری

سجائی آپ نے دار العمل میں زندگی میری محمد مصطفیٰ سے عشق میں اعزاز ہے مجھ کو مرے اللہ نے بیت اللہ میں لکھی حاضری میری مرے دل کی ہر اک دھڑکن میں دھڑکے یارسول اللہ صدا دل شاد ہو جو عاشقی ہے آپ کی میری میں کیا مانگوں مرے مولا مجھے بس ہے عطا […]

میں خاک ہوں مولا، تو مرا پھول بدن کر

قندیلِ محمد ، سے تو روشن مرا من کر تُو ہر جگہ موجود ہے، لیکن مرے مولا! کعبہ و مدینہ کو تو میرا ہی وطن کر شاداب کروں دل کو نگاہوں سے کرم ہو دیکھوں ترے کعبے کو میں تصویر سا بن کر میں حمد پڑھوں اور کہوں نعت محمد تُو اپنی تجلی سے منور […]

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا

جو بدل کے رکھ دے نظام کو، دل بے قرار کے شہر کا سبھی تیرے در کے فقیر ہیں، ہو نظر ہمارے بھی حال پر کوئی چھاؤں ہے، نہ نظام ہے ترے غمگسار کے شہر کا میں ہو مست ذکر حبیب میں، ہے نشہ ہی ایسا فضاؤں میں ہے قسم خدا کی، میں کیا کہوں، […]

لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں

امانت جان میں دے دوں مدینے کی زیارت میں نہیں ہے خوف مرنے کا، تُو جانے کب سجے محشر مدینہ گر نہیں ہو گا، رہوں گا کیسے راحت میں جبیں بے چین ہے میری تڑپ دل میں تجھے دیکھوں کروں سجدے بہ چشم نم، رہوں تیری عدالت میں یہ دل کعبہ تو ہے مرا، نگاہوں […]

لائے کوئی تو نبی ایک ہمارے کی مثال

وہ کہ نبیوں میں نبی قطب ستارے کی مثال میرے محبوب کا ثانی تو بڑی دور کی بات کوئی عالم میں نہیں اُن کے اشارے کی مثال عشق احمد میں عطا ہے مجھے تحفہ کیسا زندگی ساتھ ہے میرے کسی پیارے کی مثال ہم تو بس ذکر محمد میں مہکنا چاہیں نعت گوئی تو ہے […]

فلک پہ مل کے نجوم اک، قمر کو دیکھتے ہیں

کمال ہیں ترے جلوے جدھر کو دیکھتے ہیں حسین اس سے بھی فردوس ہو گی کیا، مولا؟ یہ تیرے گھر کے جو دیوار و در کو دیکھتے ہیں نبی کے حسن سے روشن ہوا ہے یہ عالم جہاں پہ تیرے کرم کی نظر کو دیکھتے ہیں ہیں تیرے نور کی کرنیں، سکونِ دل اس میں […]

فطرت حق کے اشارے دل بے تاب سمجھ

سر ہے سجدے میں تو سجدے کے بھی آداب سمجھ وہ ہے معبود، تو بندہ ہے ذرا سوچ کبھی اک اشارے پہ جو ٹکڑے ہوا مہتاب سمجھ گر ہے خواہش کہ نظر آئیں مقدس جلوے ایک خالق کے ہیں جتنے بھی وہ القاب سمجھ دل! اگر تجھ میں نہیں خوف خدا، خوف ابد دیکھتا تو […]