از پئے دیدنِ رُخَت، ہمچو صبا فتادہ ام
خانہ بخانہ، در بدر، کوچہ بکوچہ، کُو بکُو تیرے چہرے کی دید کے لیے بادِ صبا کی طرح میں سرگرداں ہوں خانہ بخانہ، در بدر، کوچہ بکوچہ، کو بکو
معلیٰ
خانہ بخانہ، در بدر، کوچہ بکوچہ، کُو بکُو تیرے چہرے کی دید کے لیے بادِ صبا کی طرح میں سرگرداں ہوں خانہ بخانہ، در بدر، کوچہ بکوچہ، کو بکو
وز بہرِ مقام آشیانے دارد نے طالبِ کس بوَد نہ مطلوبِ کسے گو شاد بزی کہ خوش جہانے دارد وہ کہ جسے کھانے کے لیے آسمان سے تھوڑی سی روٹی مل جاتی ہے اور سر چُھپانے کے لیے اُس کے پاس ایک ٹھکانہ ہے، جو نہ کسی کا طالب ہے اور نہ ہی کسی کا […]
ہر بے خبرے داد بعالم خبر از تو وہ کہ جس نے تیری خبر پا لی اُس کے پاس تو کوئی خبر نہیں (کہ اُسے اپنی خبر بھی نہ رہی)،اور ہر بے خبر دُنیا کو تیری خبر دیتا پھرا
نیست جز آدم دریں عالم کہ بسیار است و نیست وہ کہ جو ہم بہت ڈھونڈتے ہیں مگر اُسے کم کم دیکھتے ہیں اور جو درکار ہے مگر نہیں ملتا، آدمیوں کے سوا اس دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو بہت سے ہیں مگر نہیں ہیں
بسیار خوباں دیدہ ام، اما تو چیزے دیگری میں ملکوں ملکوں گھوما ہوں، محبوب لوگوں کی محبت میں بھی اُلجھا ہوں، بہت سے حسین بھی دیکھے ہیں، مگر تو سب سے الگ، کوئی اور ہی چیز ہے
وز قولِ بد و فعلِ بدِ خود خجلم فیضے بہ دلم ز عالمِ قدس رساں تا محو شود خیالِ باطل ز دلم یا رب، میں اپنے بدنما اور بد صورت گناہوں پر شرمسار و شرمندہ ہوں،اور اپنی بری باتوں اور برے کاموں پر نادم و پشیمان ہوں یا رب تو میرے دل پر عالمِ قدس […]
ہوتی ہے ترے نام سے انجام مری شام اے اول و آخر ترا ہر نام ہے پیارا مومن کے لئے وجہِ سکوں ہے ترا ہر نام قائم ہے ترا تخت سرِ عرشِ بریں پر ہے بات یہ لاریب نہیں اس میں کچھ ابہام ہے کون و مکاں کیا؟ تری قدرت کا کرشمہ اک "کن” کے […]
شاید کہ خاکِ پائے من بر چرخ تفضیلے کند اگر میری نظر کبھی اچانک تیرے قدموں کا بوسہ لے لے، تو ممکن ہے کہ میری خاکِ پا آسمان پر برتری لے جائے، اُس پر فضیلت پا لے
خلقت کی ہر بہار کا جھومر نبی مرا رَوشن ہے کہکشاؤں میں حُسنِ محمدی سوچو تو کس قَدَر ہے منور نبی مرا رَحمت کرے طواف ، محمد کے نور کا اَبرِ کرم کا شبنمی محور نبی مرا پتھر پہ اِک لکیر ہے شقُ القمر کا باب کنکر کو جو بنا دے سُخن وَر نبی مرا […]
سب جہاں مجبور ہیں یہ احمد مختار ہیں کہہ دو یہ اُن سے جو حق کے طالب دیدار ہیں حق سے ملنے کے مدینہ ہی میں کچھ آثار ہیں آسماں والے بھی کرتے ہیں مدینہ کا طواف عرش اعظم سے بھی اونچے یہ در و دیوار ہیں کیوں نہ آنکھوں سے لگائیں ہم مدینہ کی […]