اگر تو زندگی خواہی، دل از جان و جہاں بگسل

نیابی زندگی تا تو ز بہرِ این و آں میری اگر تو (حقیقی و جاودانی) زندگی چاہتا ہے تو پھر اپنے دل کا تعلق جان و جہان سے، ہر چیز سے توڑ دے، ختم کر دے۔ ورنہ جب تک تُو این و آں، فُلان و بُہمان ہر ایرے غیرے پر مرتا رہے گا،تجھے زندگی نہیں […]

اُن کی رضا پہ جو بھی رضا مند ہوگئے

مقبولِ بارگاہِ خداوند ہوگئے اُمڈا جو سیل اشک تو پلکوں کو سی لیا گویا گُہر صدف میں نظر بند ہوگئے آزاد ہوگئے غمِ روزِ حساب سے جو لوگ ان کے لطف کے پابند ہوگئے سارے جہاں کے درد سمٹ کر بصد نیاز اُن کی قبائے پاک کے پیوند ہوگئے اُس آستانِ پاک کا اللہ رے […]

از جودِ بے حسابِ تو جاوید زندہ ایم

زاہد ز بیمِ پُرسشِ روزِ حساب مُرد (اے خدا) ہم تیرے بے حساب جود و لطف و کرم و فضل سے ابدی و سرمدی زندگی پا گئے اور زندہ ہیں، جب کہ زاہد بیچارہ روزِ حساب کی پوچھ گچھ کے خوف سے مر گیا

اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے اب بادہ بادہ بادہِ عرفانِ حال ہے اب جرعہ جرعہ جرعہِ جامِ الست ہے اب ذرہ ذرہ ذرہِ خورشیدِ مست ہے اب قطرہ قطرہ قطرہِ اشکِ نیاز ہے اب توبہ توبہ توبہِ سوز و گداز ہے اب غنچہ […]

آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​

کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​ آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​ کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​ آپکو راضی نہ کر پایا تو مرجاؤنگا میں​ چھوٹی چھوٹی کرچیاں بن کر بکھر جاؤنگا میں​ زندگی کا اس طرح مجھ کو مزہ کیا آئے گا​ دل سیاہی کے بھنور […]

آنکھوں میں بس گیا ہے مدینہ حضور کا

بے کس کا آسرا ہے مدینہ حضور کا پھر جا رہے ہیں اہل محبت کے قافلے پھر یاد آ رہا ہے مدینہ حضور کا تسکین جاں ہے راحت دل وجہ انبساط ہر درد کی دوا ہے مدینہ حضور کا نبیوں میں جیسے افضل و اعلی ہیں مصطفی شہروں میں بادشاہ ہے مدینہ حضور کا ہے […]

آنک بدید رُوئے تو، در نَظَرَش چہ سرد شد

گنج کہ در زمیں بوَد، ماہ کہ در سما بوَد وہ کہ جس نے تیرا چہرہ دیکھ لیا، اُس کی نظروں میں کیسا بے معنی و بے وقعت و حقیر ہو گیا، وہ خزانہ کہ جو زمین میں ہے وہ چاند کہ جو آسمان میں ہے

گذشتگاں کہ ز تشویشِ ما و من رَستند

مقیمِ عالمِ یارند ہر کجا ہستند (اِس دنیا سے) چلے جانے والے کہ وہ ما و من کی تشویش (دنیاوی جھگڑوں) سے نجات پا گئے،وہ اب محبوب کی دنیا میں مقیم ہیں، جہاں کہیں بھی ہیں دوسرے مصرعے میں ‘عالمِ یارند’ کی بجائے ‘عالمِ نازند’ بھی ملتا ہے

محوِ زنجیرِ نَفَس بُودن دلیلِ ہوش نیست

ہر کہ می بینی بقیدِ زندگی دیوانہ است سانسوں کی زنجیر سے بندھا ہونا ہوشمند ہونے کی دلیل نہیں ہے جسے بھی تُو زندگی کی قید میں (زندہ) دیکھتا ہے سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے کہ قید میں اور زنجیر سے بندھا ہونا دیوانے کی نشانیاں ہیں، ہوشمند کی نہیں

دریں گُلشن پریشاں مثلِ بُویَم

نمی دانم چہ می خواہم چہ جُویَم برآید آرزو یا بر نیایَد شہیدِ سوز و سازِ آرزویَم میں دُنیا کے اس گُلشن میں خوشبو کی طرح پھیلا ہوا ہوں، اور نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں اور کس کی تلاش میں ہوں۔(مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں کہ) میری آرزو پوری ہوتی ہے یا […]