بے ذوقِ خود آگہی طلب بے کار است

رمزیست کہ فاش بر اُولی الابصار است آں نورِ ازل کہ گم شدہ از کفِ تو دریاب بہ دل کہ دل حریمِ یار است خود آگہی کے ذوق کے بغیر تیری طلب تیری تلاش بیکار ہے، اور یہ ایک ایسی رمز ہے کہ جو صاحبانِ بصیرت پر آشکار ہے وہ نورِ ازل کہ جو تیرے […]

عزم حسین! سرِ حق ایثار اولیاء

یہ کار انبیاء ہے کہ شہکارِ اولیاء سلطانِ کربلا کی حضوری میں رات دن آراستہ ہی رہتا ہے دربارِ اولیاء ایک ایک سانس کیوں نہ کرامت بدوش ہو روحِ ّحسینیت ہے طرفدارِ اولیاء بے دام بکنے کے لیے بے چین ہر کوئی واللہ کربلا ہے کہ بازارِ اولیاء آلِ نبی کی ُطرفہ بہاریں نہ پوچھئے […]

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

کسی اور کا یہ رُتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا انہیں خلق کر کے نازاں ہوا خود ہی دست قدرت کوئی شاہکار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل تو یقیں پکار اُٹھا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا مرے طاقِ جاں میں نسبت کے […]

کس کے دل کی ہیں دُعا حضرتِ سچل سرمست

ہر کوئی کہتا ہے یا حضرتِ سچل سرمست مستیاں میرے مقدر کا ستارا بن جائیں مسکرائیں جو ذرا حضرتِ سچل سرمست ہر سر شوق تو اس در کا سزاوار نہیں میں کجا اور کجا حضرتِ سچل سرمست آپ کے فیض سے سرکار کے در تک پہنچا جس طرف سے بھی چلا حضرتِ سچل سرمست کچھ […]

کرم کے راز کو علم و خبر میں رکھتے ہیں

جو لوگ گنبدِ خضرا نظر میں رکھتے ہیں جنونِ عشق محمد جو سر میں رکھتے ہیں عجب مقام جہانِ ہنر میں رکھتے ہیں نبی کے نام کی نسبت سے ہم سے عاصی بھی دُعائیں اپنی حدودِ اثر میں رکھتے ہیں خدا شناسی کی منزل میں پیروانِ رسول چراغِ علم و عمل رہگذر میں رکھتے ہیں […]

کر رہے ہیں تیری ثناء خوانی

سوچتی دھرتی بولتا پانی توُ ہے آئینہ ازل یاربّ اور میں ہوں اَبد کی حیرانی تیرے جلوؤں کے دم سے لیل و نہار تیرے سورج کی سب درخشانی گونجتا ہے ثناء کے نغموں سے گنبدِ جاں ہے میرا نورانی پار ہوتی نہیں مرے مولا درد کی سرحدیں ہیں طولانی تجھ سے بخشش کا ہے تمنائی […]

کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے

کب کڑی دھوپ میں مصطفیٰ نے سایہ کملی کا ڈالا نہیں ہے ان کی رحمت کا کیا ہے ٹھکانا دیکھ لے سوئے طائف زمانہ موسم سنگ باری میں لب پر کیا دُعا کا اُجالا نہیں ہے لاج رکھی گئی ہر صدا کی دل نوازی ہوئی ہر گدا کی ہے سخی اُن کا دربار ایسا کسی […]

وصف لکھنا حضورِ انور کا

ہے تقاضہ یہ مرے اندر کا وہ ہیں آئینۂ جمال ایسا عکس ہے جس میں آئینہ گر کا آپ کا جو نہیں، ہمارا نہیں ہے یہ اعلان ربِّ اکبر کا دشمنوں کی زباں تک پہنچا تذکرہ ان کے ُخلقِ اطہر کا جس میں ان کی ثناء کے دیپ جلیں ہیں اُجالے مقدر اس گھر کا […]

نظر کے ریگزاروں کو متاعِ نقش پا دے دو

میں ہوں تاریک راہوں میں اُجالوں کا پتا دے دو اس عہد جبر میں ہر سُو محبت کی اذاں گونجے ہمیں ایسی دعا پھر اے حبیب کبریا دے دو جہالت کے اندھیروں کی فصیلیں جس سے گر جائیں مرے ہاتھوں کو ایسا عِلم کا روشن دیا دے دو پھرے ہیں در بدر اے رحمت عالم […]