اردوئے معلیٰ

Search

بیٹیوں جیسی ھے تُو، سو جب بڑی ھو جائے گی

اے اُداسی ! کیا تری بھی رُخصتی ھو جائے گی ؟

 

ایک ھی تو شخص مانگا ھے خُدایا ! دے بھی دے

کونسا تیرے خزانوں میں کمی ھو جائے گی

 

میری بستی میں تو تِتلی پر بھی مَر مِٹتے ھیں لوگ

تیرے آنے سے تو خلقت باؤلی ھو جائے گی

 

میرا کیا ھوگا ، بتا ! تیری محبت ھار کر ؟

تیرا کیا ھے ، تُجھ کو فوراً دوسری ھو جائے گی

 

میرے حِصّے کی خُوشی پر کُڑھنے والے دوستو

اِس طرح کیا میری نعمت آپ کی ھو جائے گی ؟

 

پھول کُملا جائے گا اتنی مُسلسل دُھوپ سے

ھجر کی شدت سے گوری سانولی ھو جائے گی

 

دُور ھے جس بزم سے اُس بزمِ کی نیّت تو کر

غیر حاضر شخص ! تیری حاضری ھو جائے گی

 

بولنے سے شرم آتی ھے تو آنکھوں سے بتا

چُپ بھی ٹُوٹے گی نہیں اور بات بھی ھو جائے گی

 

اور کیا ھوگا زیادہ سے زیادہ ھجر میں ؟

سانس کی مہلت میں تھوڑی سی کمی ھو جائے گی

 

اُس کو فارس اپنے سچّے لمس کا تریاق دے

تیری آنکھوں کی ڈسی اچھی بھلی ھو جائے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ