اردوئے معلیٰ

Search

بہ میدانِ ثنا آنے سے میری عقل کترائے

ہجومِ شوق لیکن محمدت پر ان کی اکسائے

 

لبِ اظہار تک دل سے جب ان کا ذکرِ خیر آئے

یہ دیکھا معجزہ ہم نے بھری محفل کو گرمائے

 

جگانے اہلِ دنیا کو محمد مصطفیٰ آئے

ضلالت کی شبِ تیرہ میں وہ نورِ سحر لائے

 

شریعت اپنی وہ لائے وہ قرآنِ مبیں لائے

اجالا علم کا پھیلا سب اٹھے جہل کے سائے

 

خدا کے سارے بندوں پر تری رحمت کے ہیں سائے

سرِ میدانِ محشر بھی لوائے حمد لہرائے

 

خدا کی بندگی کے اس نے سب آداب سکھلائے

مسائل زندگی کے ایک اک سب اس نے سلجھائے

 

ہوا جب حکمِ ربی ” قُم فاَنذِر ” کملی والے کو

تنِ تنہا وہ اٹھے پھر نہ کچھ جھجکے نہ گھبرائے

 

اسی ماہِ مبیں کی روشنی سے دل منور ہیں

اسی ابرِ کرم نے علم کے موتی ہیں برسائے

 

وہ حسنِ خلقِ اطہر اف خدا کے اس پیمبر کا

دعائیں ان کے حق میں کیں ہزاروں جن سے دکھ پائے

 

ترا پیغام جو مانیں الولو الالباب کہلائیں

نہ مانیں جو نگاہِ رب میں وہ انساں ہیں چوپائے

 

تمہارا روضۂ انور نظرؔ سے اپنی میں دیکھوں

خدا اپنے کرم سے ساعتِ خوش جلد وہ لائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ