کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا

میں اپنے ساتھ ہی رہتا جدھر چلا جاتا وہ جس مُنڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں ، میں چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا اگر میں کھڑکیاں دروازے بند کر لیتا تو گھر کا بھید سرِ رہ گزر چلا جاتا مِرا مکاں مِری غفلت سے بچ گیا ورنہ کوئی چرا کے مرے بام […]

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

یہ سانحہ مِرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا ہوا نہ جانے کہاں لے گئی […]