صرف موسیٰؑ کو تو اسلمؔ طُور تک جانا پڑا
ہم کو تیری جستجو میں دور تک جانا پڑا کیا خبر جبریلؑ کو اِس کی کہ مُشتِ خاک کو کن مراحل سے گزر کر نور تک جانا پڑا
معلیٰ
ہم کو تیری جستجو میں دور تک جانا پڑا کیا خبر جبریلؑ کو اِس کی کہ مُشتِ خاک کو کن مراحل سے گزر کر نور تک جانا پڑا
خدایا اِن میں تیرا ایک بھی بندہ نہیں نکلا
شیر پنجرے میں بھی بے خوف و خطر رہتا ہے زیر کرتا نہیں کمزور کو داؤ اس کا جس کی بانہوں میں ہو طاقت وہ زبر رہتا ہے
آتا ہے چلا جاتا ہے پھر اپنی جگہ پر پیسہ ہے کہ نادار کے گھر رکتا نہیں ہے کیوں ہاتھ میں لوگوں نے اٹھا رکھے ہیں پتھر پک جائے تو پیڑوں پہ ثمر رکتا نہیں ہے
ہم سخت جان ٹھہرے ہیں آرام بیچ کر تیری طرح جہان میں اے پیرِ بے عمل اسلاف کا میں زندہ نہیں نام بیچ کر واجب سزائے ٹیکس ہے اس پر بھی شہر میں بچوں کا پیٹ بھرتا ہے جو آم بیچ کر اس شہرِ عیش میں کہاں احساس درد کا پتھر کے لوگ بن گئے […]
جہاں مطلب نظر آئے تعلق وار دیتا ہے چمک درکار ہے تجھ کو تو ذرے کی طرح ہو جا پہاڑوں کو ہمیشہ وہ اندھیرے غار دیتا ہے یہاں نیت کو پھل لگتا ہے پیڑوں سے یہ کہہ دینا اسے کچھ بھی نہیں ملتا جو نیت ہار دیتا ہے اسے اب اپنا چہرہ دیکھنا اچھا نہیں […]
لذتِ درد مر نہ جائے کہیں دیکھ کر میری خستہ حالی کو وہ جفاؤں سے ڈر نہ جائے کہیں شوق جو اُس کی راہ پہ چل نکلا راستے میں ٹھہر نہ جائے کہیں یہ ہوا بھی جنون پرور ہے مجھ کو دیوانہ کر نہ جائے کہیں اُس کو دیکھے بغیر ہی اسلمؔ عمر ساری گزر […]
دکھ درد ہی پیڑوں کو رہائی نہیں دیتے برباد کیا یوں میرے گلشن کو خزاں نے اب گیت پرندوں کے سنائی نہیں دیتے کچھ اور بڑھا دے نہ ستم باغ کا مالی سہمے ہوئے طائر ہیں دہائی نہیں دیتے آنے کو قیامت ہے کوئی اپنے جہاں پر حالات مجھے ٹھیک دکھائی نہیں دیتے جن لوگوں […]
زیرِ زمین زر تھا نکالا نہیں گیا جن کی دعا سے پیدا ہوئی ہے شعاعِ مہر ان بستیوں میں اُس کا اُجالا نہیں گیا گو سامنے نظر کے وہ شفاف جھیل تھی دلدل سے اپنا پاؤں نکالا نہیں گیا کچھ اس لیے بھی دور حقیقت کا شہر ہے رنگوں سے آگے دیکھنے والا نہیں گیا […]
نشے طاقت کے لوگوں سے بصارت چھین لیتے ہیں اپاہج اور بھی کر دیں گی یہ بیساکھیاں تجھ کو سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں غموں کی دھوپ میں چہروں پہ رونق کس طرح آئے یہ موسم درد کے خوشیوں کی دولت چھین لیتے ہیں میں سمجھوتا بھی اس ماحول سے کیسے کروں کوئی […]