تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے جھکا دے گا تری گردن […]

مجھے اندر کا وحشی معتبر ہونے نہیں دیتا

جدھر انسانیت ہے یہ ادھر ہونے نہیں دیتا نمو کی ساری خاصیت پنہاں ہے میرے سینے میں زمیں کا شور ہی مجھ کو شجر ہونے نہیں دیتا اچانک ٹوٹ پڑتیں بجلیاں ہیں میرے خرمن پر برا دن اپنے آنے کی خبر ہونے نہیں دیتا میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا […]

جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ھے

حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ھے منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ھے آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ھے سب گنگ زبانیں ہیں یہاں شاہ کے آگے جو رائے کا اظہار کرے کوئی نہیں ھے قاتل […]