یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
معلیٰ
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
چمن چمن میں یونہی صبح و شام ہوتی رہی
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
تمہارے ساتھ وہ ہنگامۂ بہار گیا