کبھی ہے پھول کبھی خارزار ہے ساحرؔ
کبھی ہے موم کبھی خشت و سنگ ہے دنیا
معلیٰ
کبھی ہے موم کبھی خشت و سنگ ہے دنیا
شاید مری دنیا میں چمکے گا نیا سورج
لیـکن ، اِسے بازار بنانے سے رہا مَیں
یعنی خود اپنی ذات کی پہچان مل گئی دل کی نظر سے میں نے جو دیکھی یہ کائنات ہر شئے جو تھی مفسرِ قرآن مل گئی
وہ غم بھی مرے واسطے سوغات میں آئے
تم بھی دنیا کی نگاہوں سے اتر کر دیکھو
ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھرنا نہیں آتا ہر گام پہ ہوتا ہے گماں حدِ عدم کا شاید مجھے دنیا سے گزرنا نہیں آتا
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
احباب تو مزار کا پتھر بدل گئے