اُسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اُس نے
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
معلیٰ
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
دُنیا بھی جیسے اَندھے کباڑی کا مال ہو
خوشا کہ مستی فیضِ جنوں سے چیخ اٹھے یہ ناز طبع بلند بہ زعم خود نگہی زمانہ سازی دنیائے دوں سے چیخ آٹھے
یہ نہ حاصل ہو تو بیکار ہے دنیا ہو کہ دیں
اب نہ دشمن کا ڈھونڈو کرم ساتھیو منحصر ہے یہ دنیا جو اسباب پر سب ہی اسباب ہوں گے بہم ساتھیو
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں