عشق کرنے میں اک خرابی ہے
حُسن اوقات میں نہیں رہتا
معلیٰ
حُسن اوقات میں نہیں رہتا
پھر وہ موسم تو گیا اور قیامت نہ گئی
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
غمِ ہستی ترے خزینے میں
کوششِ ضبط پہ بھی آہ نکل جاتی ہے پھر پلٹ کر نہیں آتی یہ سمجھ لے پیارے دل سے اک بار اگر چاہ نکل جاتی ہے
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
ہم نے کیا ہے عشق ، تماشا نہیں کیا
دکان دار و خــریدار جھوٹ بولتے ہیں
عشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریں
کیا کہا عشق جاودانی ہے آخری بار مل رہی ہو کیا