عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
معلیٰ
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
ہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہے
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
کہ عین وقت مرے سامنے سے تو گزرا
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
یعنی میں جمع تو مساوی عشق
اگر تمہاری نہیں تو کسی کی بھی نہ رہوں
دل ہے سینے میں تو آخر کو دھڑک سکتا ہے
مرضِ عشق کی شاید ہو پسِ مرگ شفا زندگی میں تو یہ آزار نہیں جانے کا
آگے عشق دی اپنی مرضی