میں پھول بھی ہوں ، زخم بھی ، خوشبو بھی ، درد بھی
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
معلیٰ
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
میں نے جس روز بھی پھولوں کی تلاشی لی ہے
اور اُس پھول سے آنے لگی مہکار مجھے
میں سانس لیتی ہوئی زندگی کا آدمی ہوں
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
باغ میں کس قدر اداسی ہے
مرا محبوب ایسا نازنیں ہے
ہم اپنے دل میں اسی کو بہار جانتے ہیں
ہمارے شہر میں پھولوں کی اک دکان نہیں