پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا
بول، سچے عاشقوں نے اور تجھ کو کیا دیا؟
معلیٰ
بول، سچے عاشقوں نے اور تجھ کو کیا دیا؟
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
گوہرِ رخشاں کو وقفِ قعرِ دریا کر دیا ہے نظامِ زندگی بالاتر از ادراک و فہم بس یہی کہیے کہ اس نے جو بھی چاہا کر دیا
کبھی ہے موم کبھی خشت و سنگ ہے دنیا
مدّعائے صبا خدا معلوم
خلشِ نوکِ خار باقی ہے تم کو دیکھا ، ہنسا ، پر آنکھوں میں اشکِ بے اختیار باقی ہے
جیسے پھولوں کے درمیاں ہوں میں
مگر پھر بھی دامن ہے خالی کا خالی
یارو انہیں کے ہاتھ سے پتھر لگے مجھے