چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بودو باش اچھی
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
معلیٰ
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
اب ہاتھ میں ہوں دامنِ صحرا لیے ہوئے
گوہرِ رخشاں کو وقفِ قعرِ دریا کر دیا ہے نظامِ زندگی بالاتر از ادراک و فہم بس یہی کہیے کہ اس نے جو بھی چاہا کر دیا
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے
کون اس صحرا میں اس بیکس کا ہو گا غمگسار