یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
معلیٰ
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
خانہ ویرانی کا عالم ، گھر میں تھا
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے