دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر کروں میں سجدہ بتوں کے آگے تو […]

کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا

میں اپنے ساتھ ہی رہتا جدھر چلا جاتا وہ جس مُنڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں ، میں چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا اگر میں کھڑکیاں دروازے بند کر لیتا تو گھر کا بھید سرِ رہ گزر چلا جاتا مِرا مکاں مِری غفلت سے بچ گیا ورنہ کوئی چرا کے مرے بام […]

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

یہ سانحہ مِرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا ہوا نہ جانے کہاں لے گئی […]

دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا

سنگِ ارزاں تہِ بنیاد نہیں آئے گا دن نکلتے ہی بُھلا دوں گا میں اندیشۂ روز سرحدِ صبح میں شب زاد نہیں آئے گا ایسے اک طاقِ تمنا پہ رکھ آیا ہوں چراغ بجھ گیا بھی تو مجھے یاد نہیں آئے گا حسنِ خود دار کو اِس دورِ خود آرا میں بہم ہنر مانی و […]

اِس کے ہر ذرّے سے پیمان دوبارہ کر لو

اپنی مٹی کو مقدر کا ستارہ کر لو برف سی جمنے لگی دل پہ نئے موسم کی ہجر کی آنچ کو بھڑکا کے شرارہ کر لو صحن بھر چاندنی کب راہ نوردوں کا نصیب آنکھ میں عکس قمر بھر کے گزارہ کر لو تلخیاں ہیں نئے منظر میں ہماری اپنی خوش نظر بن کے یہ […]